فیفاورلڈ کپ سے پہلے ناروے کااقدام ، کھلاڑیوں کی دیسی خوراک امریکاپہنچادی

فیفا ورلڈ کپ 2026 کی گہما گہمی عروج پر ہے اور دنیا بھر کی ٹیمیں امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں ہونے والے فٹبال کے سب سے بڑے میلے کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ تاہم اس بار ناروے نے صرف میدان میں ہی نہیں بلکہ میدان سے باہر بھی ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

اےایف پی کے مطابق 28 سال بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ناروے کی ٹیم نے اپنے کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس اور ذہنی آسودگی برقرار رکھنے کے لیےکئی ٹن روایتی نارویجین خوراک امریکا بھجوا دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ ، کپتان مارٹن اڈےگارڈ اور دیگر کھلاڑیوں کے لیے 1000 کلوگرام سے زیادہ پسندیدہ گھریلو اشیا امریکا منتقل کی ہیں تاکہ وہ دورانِ ٹورنامنٹ اپنے روایتی ذائقوں سے محروم نہ رہیں۔

اس خصوصی کھیپ میں 116 کلوگرام ناروے کا مشہور برونوسٹ پنیر، 300 کلوگرام سالمن مچھلی اور تقریباً 6 ہزار سنترے شامل ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کا خیال ہے کہ مانوس خوراک نہ صرف کھلاڑیوں کی توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر ملکی ماحول میں ذہنی سکون اور اعتماد بھی فراہم کرتی ہے۔

ناروے کی ٹیم آخری مرتبہ 1998 کے عالمی کپ میں نظر آئی تھی۔ تقریباً تین دہائیوں بعد ورلڈ کپ میں واپسی کرنے والی ٹیم کے حکام کسی بھی قسم کی کمی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ان کے مطابق طویل دورانیے کے عالمی مقابلوں میں کھلاڑیوں کی نفسیاتی کیفیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی ان کی جسمانی فٹنس۔

ٹیم کی نظریں خاص طور پر ارلنگ ہالینڈ پر مرکوز ہیں، جنہیں موجودہ دور کے خطرناک ترین اسٹرائیکرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ناروے کو امید ہے کہ ہالینڈ کی شاندار فارم اور ٹیم کے لیے فراہم کیا گیا یہ خصوصی ماحول انہیں ٹورنامنٹ میں یادگار کارکردگی دکھانے میں مدد دے گا۔

کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فٹبال میں کامیابی صرف تربیت اور حکمت عملی تک محدود نہیں رہی بلکہ خوراک، ذہنی صحت اور کھلاڑیوں کے آرام و سکون کو بھی فتح کی کنجی سمجھا جاتا ہے، اور ناروے کا یہ اقدام اسی سوچ کی ایک منفرد مثال ہے۔