اہم ترین

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر بطور ثالث دستخط کر دیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی، فوجی محاذ آرائی اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے پسِ پردہ مذاکرات، سفارتی رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

معاہدے کے تحت امریکا اور ایران نے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع امن معاہدے کی تیاری پر اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سوئٹزرلینڈ میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق معاہدے میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار پر بات چیت، اور بعض امریکی پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے جیسے اہم نکات بھی شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو عالمی امن کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا اور یہی کوششیں بالآخر ایک بریک تھرو پر منتج ہوئیں۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ مکمل اور مستقل امن معاہدے کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے کے تجارتی راستوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے نے پاکستان کو ایک فعال سفارتی ثالث اور علاقائی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی علاقائی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان