امریکا میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اہم سیاسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کر کے انتظامیہ سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں یہ قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس سے قبل ایوان نمائندگان بھی بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت سے اسی نوعیت کی قرارداد کی منظوری دے چکا تھا، جسے صدر کی پالیسی کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ قرارداد وار پاورز ایکٹ کے تحت پیش کی گئی، جس کا مقصد کانگریس کے جنگ اور فوجی کارروائیوں سے متعلق آئینی اختیارات کو اجاگر کرنا ہے۔ اگرچہ اس قرارداد کے نفاذ کے لیے صدر کے دستخط درکار نہیں ہوتے، تاہم ماہرین اس کی عملی اور قانونی اہمیت پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔
سینیٹ کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع پر امریکہ کے اندر سیاسی اور عوامی سطح پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران متعدد ریپبلکن ارکان نے بھی صدر ٹرمپ کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس سے حکمران جماعت کے اندر پائے جانے والے اختلافات نمایاں ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے قرارداد کی منظوری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے غلط وقت پر پیش کی گئی اور بے معنی قرارداد قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران شکست کے دہانے پر تھا، مگر سینیٹ کی حالیہ کارروائی نے ان کی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متبادل راستے اختیار کریں گے۔
دوسری جانب عوامی رائے بھی جنگ کے حوالے سے محتاط دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ رائے عامہ کے سروے کے مطابق تقریباً تین چوتھائی امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس کی قیمت اور ممکنہ نتائج کے مقابلے میں فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ سروے میں شریک اکثر افراد نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ تہران کے ساتھ ہونے والی کسی بھی جنگ بندی یا امن مفاہمت کے طویل المدت اور پائیدار ہونے کے امکانات محدود ہیں۔
سینیٹ کی یہ قرارداد اگرچہ فوری طور پر امریکی پالیسی تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تاہم یہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ ایران کے معاملے پر کانگریس اور عوام کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔











