مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے جدید ترین جی پی ٹی 5.6 ماڈل سیریز کا ابتدائی پری ویو محدود پیمانے پر صرف امریکا میں منتخب شراکت داروں کے لیے جاری کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ امریکی حکومت کی درخواست پر کیا گیا، جبکہ مستقبل میں ماڈلز کو مزید وسیع پیمانے پر دستیاب کرانے کا ارادہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں جدید اے آئی ماڈلز کے قومی سلامتی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے نگرانی سخت کر دی ہے۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے جدید ماڈلز تک غیر امریکی شہریوں کی رسائی روک دے، جس کے بعد کمپنی نے ان ماڈلز کی دستیابی مکمل طور پر معطل کر دی تھی۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس نے نئے ماڈلز کی صلاحیتوں سے متعلق امریکی حکام کو پیشگی بریفنگ دی اور حکومتی درخواست کے مطابق پہلے مرحلے میں صرف چند قابلِ اعتماد امریکی اداروں کو رسائی دی جا رہی ہے۔ تاہم ان اداروں کے بیرونِ ملک موجود ملازمین بھی ان ماڈلز سے استفادہ کر سکیں گے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ وہ اس حکومتی طریقۂ کار کو مستقل نظام نہیں سمجھتی۔ اوپن اے آئی کے مطابق ایسی پابندیاں صارفین، سافٹ ویئر ڈویلپرز، کاروباری اداروں، سائبر سکیورٹی ماہرین اور عالمی شراکت داروں کو جدید ٹیکنالوجی سے محروم رکھ سکتی ہیں، لیکن فی الحال محدود اجرا مستقبل میں وسیع دستیابی کی جانب ایک عارضی قدم ہے۔
رپورٹ کے مطابق جدید اے آئی ماڈلز کی سب سے بڑی خصوصیت سافٹ ویئر میں موجود کمزوریوں یا سکیورٹی خامیوں کی غیر معمولی حد تک نشاندہی کرنے کی صلاحیت ہے، جس کے باعث قومی سلامتی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ریلیز سے قبل ان کے قومی سلامتی سے متعلق خطرات کا رضاکارانہ وفاقی جائزہ لینے کا نظام متعارف کرایا گیا۔
اوپن اے آئی نے اپنی نئی سیریز میں تین ماڈلز متعارف کرائے ہیں۔ سول کو کمپنی کا فلیگ شپ ماڈل قرار دیا گیا ہے، ٹیراروزمرہ اور پیشہ ورانہ استعمال کے لیے درمیانی درجے کا ماڈل ہے، جبکہ لونا کم لاگت اور تیز رفتار کارکردگی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ جب ٹیراکو عام صارفین کے لیے جاری کیا جائے گا تو اس کی قیمت سابق جی پی ٹی 5.5 ماڈل کے مقابلے میں تقریباً نصف ہوگی، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی مسابقتی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانا ہے۔











