اہم ترین

یورپ میں تاریخی ہیٹ ویو سے نظام زندگی مفلوج: اسپتال مریضوں سے بھر گئے

یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے، صحت کے نظام پر دباؤ بڑھنے اور مختلف سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ماہرین موسمیات کے مطابق بار بار آنے والی ایسی شدید گرمی کی لہریں انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی واضح علامت ہیں اور مستقبل میں ان کی شدت، دورانیہ اور تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

فرانس، جرمنی، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں شدید گرمی کے باعث متعدد ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شدید گرمی کے باعث اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا، جہاں ایمرجنسی کالز میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق صحت کے نظام پر بوجھ کم کرنے کے لیے پیرس پرائیڈ مارچ کو بھی ملتوی کرنا پڑا۔

دوسری جانب جرمنی کے شہر ساربرکن میں درجہ حرارت 41.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو ملک میں اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت قرار دیا گیا ہے۔ برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں بھی جون کے مہینے کے بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے۔

سوئٹزرلینڈ میں یورپ کے قدیم ترین جوہری بجلی گھر بیزنو کو دریائے آرے کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق دریا کا پانی تقریباً 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس سے ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مناسب نظام متاثر ہوا۔

فرانس کے شہر مارسیلے میں شدید گرمی کے دوران ایک کم عمر بچہ گاڑی میں ملنے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ ملک میں اسی نوعیت کے دیگر واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

یورپی موسم کی اس شدت نے روزمرہ زندگی، تفریحی سرگرمیوں اور سفری نظام کو بھی متاثر کیا۔ بیلجیئم میں ایئر کنڈیشننگ خراب ہونے کے باعث یورو اسٹار ٹرینوں سے سیکڑوں مسافروں کو نکالنا پڑا۔

نیدرلینڈز میں شدید گرمی کے خدشات کے باعث مشہور الیکٹرانک میوزک فیسٹیول ڈیفکون 1 منسوخ کر دیا گیا، جبکہ پولینڈ میں بلند درجہ حرارت اور کم بارش کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھنے کی وارننگ جاری کی گئی۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ لہر مغربی یورپ سے بڑھ کر بلقان کے علاقوں تک پہنچ رہی ہے، جہاں سربیا، بوسنیا، کروشیا، کوسوو، شمالی مقدونیہ اور مونٹی نیگرو میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق حالیہ گرمی کی لہر نے کئی درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور انسانی صحت، زراعت، ماحولیات اور کام کرنے کی صلاحیت پر نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پاکستان