وینزویلا کے ساحلی صوبے لا گوائیرا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی کے ساتھ ساتھ لوٹ مار اور بدامنی کی سنگین لہر بھی سامنے آ گئی ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں دکانیں، سپر مارکیٹیں، فارمیسیاں اور گھروں کو لوٹ لیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ملبے تلے دبی دکانوں سے سامان اٹھا کر لے جاتے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق زلزلوں کے فوراً بعد بعض افراد نے تباہ شدہ مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کا رخ کیا اور گھریلو برقی آلات، اشیائے خور و نوش اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا۔ کئی ویڈیوز میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چھتوں پر لوٹا گیا سامان بھی نظر آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض افراد نے پولیس اور فوجی اہلکاروں پر بھی گھروں اور حتیٰ کہ ہلاک ہونے والوں کی املاک چوری کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
71 سالہ مقامی خاتون ماریا ایسٹر برنال نے بتایا کہ ان کی کرائے پر دی گئی تمام دکانیں لوٹ لی گئیں، یہاں تک کہ بجلی کی تاریں بھی نکال کر لے جائی گئیں۔ ان کے مطابق ایک چینی شہری کی لاش دکان میں موجود تھی مگر لوگ اس کے جسم کے اوپر سے گزر کر سامان لوٹ رہے تھے۔
حکام کے مطابق زلزلوں میں اب تک کم از کم 1450 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد لاپتا ہیں۔ متاثرین حکومت پر امدادی کارروائیوں میں سستی کا الزام لگا رہے ہیں اور خوراک، پانی، ادویات، سیکیورٹی اور ریسکیو سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حکومت نے لا گوائیرا میں فوج تعینات کر دی ہے اور علاقے میں داخلے کو خصوصی اجازت نامے سے مشروط کر دیا ہے، تاہم اس کے باوجود مختلف علاقوں سے لوٹ مار، گاڑیوں سے ایندھن چوری کرنے اور جعلی فائر فائٹرز بن کر لوگوں کو دھوکا دینے جیسے واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
مقمای لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھر سے کپڑے، جوتے، برتن اور دیگر تمام ضروری سامان چوری کر لیا گیا۔ جب وہ ملبے سے لاشیں نکال رہے تھے، اسی دوران بعض لوگ گھروں اور دکانوں سے سامان لوٹنے میں مصروف تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیم پروویا کے سابق عہدیدار مارینو الوارادو نے کہا کہ 1999 میں لا گوائیرا میں آنے والی تباہ کن بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بھی اسی طرح جرائم، پولیس زیادتیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے لوٹ مار کے الزامات سامنے آئے تھے، اور موجودہ صورتحال بھی اسی کی یاد دلا رہی ہے۔
دوسری جانب، لوٹ مار کا نشانہ بننے والی فارماٹوڈو فارمیسی چین کی ایک برانچ کو مقامی افراد کی مدد سے صاف کر کے وہاں عارضی بنیادی طبی مرکز قائم کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔











