امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ریاستی قوانین کو برقرار رکھتے ہوئے ٹرانس جینڈر طالب علم کھلاڑیوں پر لڑکیوں اور خواتین کی اسکول و یونیورسٹی کھیلوں کی ٹیموں میں شرکت کی پابندی کو درست قرار دے دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے آئیڈاہو اور ویسٹ ورجینیا کی جانب سے نافذ کردہ قوانین کے خلاف نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستیں خواتین کی کھیلوں کی ٹیموں کو حیاتیاتی جنس (Biological Sex) کی بنیاد پر منظم کر سکتی ہیں۔
ان قوانین کے تحت سرکاری اسکولوں اور جامعات میں خواتین کی ٹیموں میں صرف حیاتیاتی طور پر خواتین کو شرکت کی اجازت ہوگی، جبکہ حیاتیاتی طور پر مرد طلبہ، خواہ وہ خود کو ٹرانس جینڈر خواتین کے طور پر شناخت کرتے ہوں، ان ٹیموں میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔
یہ فیصلہ امریکا میں ٹرانس جینڈر حقوق اور خواتین کے کھیلوں سے متعلق جاری قانونی و سماجی مباحث میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو قدامت پسند حلقوں کی بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئیڈاہو اور ویسٹ ورجینیا کے علاوہ امریکا کی مزید 25 ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے قوانین پہلے سے نافذ ہیں، اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد ان قوانین کی آئینی حیثیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔











