اہم ترین

دنیا میں امیر امیر اور غریب غریب تر: روزانہ 2600 نئے کروڑ پتی

سوئس بینک یو بی ایس کی سالانہ گلوبل ویلتھ رپورٹ 2025 کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں ذاتی دولت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تقریباً 10 لاکھ افراد پہلی مرتبہ امریکی ڈالر کے حساب سے ملینیئر بن گئے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران روزانہ اوسطاً 2600 افراد ڈالر ملینیئرز کی صف میں شامل ہوئے۔ نئے ملینیئرز میں تقریباً نصف کا تعلق امریکا سے تھا، جہاں 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کی دولت 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ چین، جاپان، جرمنی، برطانیہ اور فرانس بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں 20 لاکھ سے زیادہ ڈالر ملینیئرز موجود ہیں۔

یو بی ایس کے مطابق 2025 میں عالمی ذاتی دولت میں ڈالر کی بنیاد پر 10.8 فیصد اضافہ ہوا، جو 2024 میں 4.6 فیصد اور 2023 میں 4.2 فیصد اضافے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ دولت میں سب سے زیادہ 17.5 فیصد اضافہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے خطے میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکا میں 8.5 فیصد اور ایشیا پیسیفک میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ ذاتی دولت امریکا اور چین میں مرتکز ہے۔ فی بالغ اوسط دولت کے لحاظ سے سوئٹزرلینڈ 9 لاکھ 10 ہزار 382 ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ امریکا، لکسمبرگ، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا بالترتیب اگلے نمبروں پر ہیں۔

یو بی ایس کا کہنا ہے کہ دنیا کی 42 فیصد آبادی کے اثاثوں کی مالیت 10 ہزار ڈالر سے کم ہے، جبکہ 41 فیصد افراد کے اثاثے 10 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کے درمیان ہیں۔ صرف 15.3 فیصد افراد کے اثاثے ایک لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہیں، جبکہ محض 1.5 فیصد افراد ایسے ہیں جن کی دولت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈالر ملینیئر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں 10 لاکھ ڈالر نقد موجود ہوں، کیونکہ بیشتر افراد کے لیے رہائشی جائیداد ہی سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ جائیدادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی لاکھوں افراد کو ملینیئرز کی فہرست میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 تک 47 ممالک میں ارب پتی افراد کی تعداد بڑھ کر 3,302 ہو گئی، جو گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں 13.1 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں ایک ہزار سے زائد ارب پتی امریکا، 562 چین اور 211 بھارت میں رہتے ہیں۔

پاکستان