وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کرتے ہوئے اسے 40 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کر دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق نئے ٹیرف کا اطلاق آج سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمرشل بنیادوں پر درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر اب 30 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ اس سے قبل یہ شرح 40 فیصد تھی۔ یہ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی پہلے سے نافذ کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر قابلِ اطلاق ٹیکسز کے علاوہ وصول کی جائے گی۔
حکومت نے آئندہ برسوں میں اس اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی کو مرحلہ وار کم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کے تحت ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی، جبکہ مالی سال 2029-30 تک اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے رواں مالی سال سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دے رکھی ہے، جس کے لیے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ضروری ترامیم کی گئی تھیں۔
حکومت کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کی سخت پابندی سے مشروط ہوگی تاکہ ملک میں درآمد ہونے والی گاڑیاں مقررہ بین الاقوامی معیارات پر پورا اتریں۔
ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی سے مستقبل میں استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں کچھ حد تک کمی آنے اور آٹو مارکیٹ میں مسابقت بڑھنے کا امکان ہے، تاہم حتمی اثرات کا انحصار ڈالر کی شرح، دیگر ٹیکسوں اور درآمدی اخراجات پر ہوگا۔











