یورپی یونین نے آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم علی ایکسپریس پر غیر قانونی، جعلی اور غیر محفوظ مصنوعات کی فروخت روکنے میں ناکامی پر 550 ملین یورو (تقریباً 183 ارب پاکستانی روپے) کا ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا۔
یورپی کمیشن کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پلیٹ فارم پر فروخت ہونے والے متعدد کھلونے، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات یورپی یونین کے سخت حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر پورا نہیں اترتے تھے۔ اس کے علاوہ جعلی مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے علی ایکسپریس کا نظام بھی مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ جب پلیٹ فارم غیر قانونی مصنوعات کی نشاندہی بھی کر لیتا تھا تو ان میں سے کئی اشیاء ہفتوں تک ویب سائٹ پر فروخت کے لیے موجود رہتی تھیں، جبکہ لاکھوں ایسی مصنوعات دوبارہ نئے طریقوں سے فروخت کے لیے پیش کر دی جاتی تھیں۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر قانونی اشیاء فروخت کرنے والے متعدد تاجر پلیٹ فارم پر بدستور سرگرم رہے۔
یورپی یونین کی ٹیکنالوجی کمشنر ہینا ورکونن نے کہا کہ آن لائن خریداری کرنے والے صارفین کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ خطرات کی بروقت نشاندہی کریں اور انہیں مؤثر طریقے سے ختم کریں۔ ان کے مطابق علی ایکسپریس اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہا، اسی لیے کمپنی کے خلاف کارروائی کی گئی۔
یہ جرمانہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 120 ملین یورو جبکہ ای کامرس پلیٹ فارم ٹیمو پر 200 ملین یورو کا جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب علی ایکسپریس نے جرمانے کو “غیر متناسب” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے نگرانی کے نظام میں نمایاں بہتری لائی ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف دستیاب تمام قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
یورپی یونین نے علی ایکسپریس کو ہدایت کی ہے کہ وہ جرمانہ ادا کرنے کے ساتھ 20 اکتوبر تک ایک جامع اصلاحی منصوبہ بھی پیش کرے، جس میں واضح کیا جائے کہ آئندہ غیر قانونی اور جعلی مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ مقررہ مدت میں ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کمپنی کو مزید مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
علی ایکسپریس یورپی یونین میں تقریباً 19 کروڑ 30 لاکھ صارفین کے ساتھ چین کا سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم ہے، جبکہ یورپی یونین اس کمپنی کی سب سے بڑی عالمی مارکیٹ بھی سمجھی جاتی ہے۔











