اہم ترین

امریکا کا مون شوٹ اے آئی پر اینتھروپک کی ٹیکنالوجی نقل کرنے کا الزام

امریکی حکومت نے چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی مون شوٹ اے آئی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے امریکی کمپنی اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈل کی نقل کر کے اپنا کیمی کے 3 ماڈل تیار کیا۔

وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کریٹسیوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکی حکام کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جن کے مطابق مون شوٹ اے آئی نے اینتھروپک کے جدید ماڈل فیبل سے ڈسٹلیشن کے ذریعے اپنے کیمی کے 3 ماڈل کی تیاری کی۔

امریکی حکام کے مطابق ڈسٹلیشن ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ایک چھوٹا اے آئی ماڈل کسی بڑے اور زیادہ طاقتور ماڈل کے نتائج کی نقل سیکھتا ہے۔ اگرچہ یہ تکنیک صنعت میں عام ہے، تاہم امریکا کا دعویٰ ہے کہ بعض چینی کمپنیاں اسے امریکی ٹیکنالوجی کی غیرقانونی نقل کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

مائیکل کریٹسیوس نے مزید الزام لگایا کہ مون شوٹ اے آئی نے امریکی نگرانی سے بچنے کے لیے ایک جدید اندرونی نظام بنایا اور این ویڈیا کے جدید جی بی 300 چپس سے لیس سرورز بھی حاصل کیے، جبکہ تھائی لینڈ میں موجود ایسے سرورز تک بھی رسائی حاصل کی تاکہ اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کر سکے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر ملکی کمپنیاں امریکی اے آئی ٹیکنالوجی چوری کرنے میں ملوث پائی گئیں تو ان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

ابھی تک مون شوٹ اے آئی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان