اہم ترین

مشرق وسطی میں کشیدگی نے دنیا پھر کوئلے سے بجلی بنانے کی طرف مائل

عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، آبنائے ہرمز میں بار بار رکاوٹوں اور قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث دنیا ایک بار پھر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر انحصار بڑھا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں عالمی سطح پر کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں 1.4 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح تقریباً جمود کا شکار رہی تھی۔ اس رجحان کی بنیادی وجہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔

آئی ای اے کے مطابق مارچ 2026 سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی اسی اہم بحری راستے سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے متعدد ممالک کو متبادل کے طور پر کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کا سہارا لینا پڑا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 کے دوران عالمی توانائی کی قیمتیں 2025 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد بڑھ چکی ہیں اور یہ سطح 2022 اور 2023 کے عالمی توانائی بحران کے بعد بلند ترین ہے، جب یوکرین جنگ نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔

کوئلے کے استعمال میں اضافے کے باعث بجلی کے شعبے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ (ے اخراج میں بھی ایک فیصد اضافہ متوقع ہے۔ تاہم مختلف خطوں میں صورتحال مختلف رہے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں اخراج تقریباً 6 فیصد بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ یورپی یونین میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال کے باعث 5 فیصد کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ 2026 میں کوئلے کا استعمال بڑھے گا، لیکن 2027 سے صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے کیونکہ شمسی، ہوائی اور آبی توانائی سمیت قابلِ تجدید ذرائع تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2027 تک قابلِ تجدید توانائی عالمی بجلی کی پیداوار میں 37 فیصد حصہ حاصل کر لے گی، جو 2025 میں 33 فیصد تھا۔ خاص طور پر شمسی توانائی 2026 میں ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی کو پیچھے چھوڑ کر پن بجلی کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا قابلِ تجدید ذریعہ بننے جا رہی ہے۔

آئی ای اے نے یہ بھی کہا ہے کہ صنعتوں، الیکٹرک گاڑیوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث دنیا میں بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2026 میں بجلی کی عالمی طلب میں 3.6 فیصد اور 2027 میں 3.8 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں ایل نینو کے معمول سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے باعث شدید گرمی، ایئر کنڈیشننگ کی بڑھتی ہوئی ضرورت، اور بعض علاقوں میں پن بجلی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی توانائی کا نظام جغرافیائی سیاسی تنازعات سے اب بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق طویل المدتی توانائی کے استحکام، قیمتوں میں توازن اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

پاکستان