برائن لارا اسٹیڈیم ترینیداد میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن، کاوم ہوج کے شاندار اور ناٹ آؤٹ 83 رنز اور شائی ہوپ کی ہمت افزا بیٹنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے بارش سے متاثرہ دن کے اختتام پر 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنا لیے ہیں۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ بارش کے باعث میچ کا آغاز متاثر رہا اور پہلے سیشن میں صرف ایک گھنٹے سے کچھ زائد کا کھیل ممکن ہو سکا۔ اسی دوران پاکستان کے سینئر فاسٹ بولر محمد عباس نے ابتدائی کامیابی حاصل کرتے ہوئے برینڈن کنگ کو بولڈ کر دیا۔
کھانے کے وقفے کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو کاوم ہوج اور تاگینارائن چندرپال نے دوسری وکٹ کے لیے 51 رنز کی شراکت قائم کی۔ عامر جمال نے چندرپال کو سلپ میں سلمان آغا کے ہاتھوں کیچ کروا کر اس شراکت کا خاتمہ کیا۔ اس کے بعد محمد عباس نے عامر جنگو کو ایل بی ڈبلیو (DRS کے ذریعے) آؤٹ کر کے ویسٹ انڈیز کو 106 کے مجموعی اسکور پر تیسرا جھٹکا دیا۔
تاہم، اس کے بعد کاوم ہوج کا ساتھ دینے کے لیے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف سینچری بنانے والے شائی ہوپ کریز پر آئے اور دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا۔ ہوج نے 181 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 9 چوکوں کی مدد سے 83 رنز بنائے ہیں، جبکہ ہوپ 39 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس 44 رنز کے عوض 2 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے، جبکہ عامر جمال نے ایک وکٹ حاصل کی مگر وہ 10 اوورز میں 54 رنز دے کر قدرے مہنگے ثابت ہوئے۔ ڈیبیو کرنے والے بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے 12 اوورز میں بہت عمدہ اور معقول بولنگ کی لیکن کوئی وکٹ نہ لے سکے۔
روزانہ کے کھیل کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے محمد عباس نے کہا: “ہمارے لیے دن مناسب رہا، اگرچہ ہم مزید ایک دو وکٹیں حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پچ تھوڑی سست ہے اور میچ سے ایک دن پہلے کور تھی، جس کی وجہ سے بولرز کو اس سے مدد حاصل کرنے کے لیے کافی محنت کرنا پڑ رہی ہے۔”
میچ سے قبل دونوں ٹیموں کو غیر متوقع تبدیلیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف نے ذاتی وجوہات کی بناء پر سلیکشن سے معذرت کر لی، جبکہ پاکستان کے بلے باز عبداللہ فاضل کمر کی تکلیف (Back Injury) کی وجہ سے اس سیریز اور آنے والے دورہ انگلینڈ سے باہر ہو گئے۔











