پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اہم ہے یا مسلم لیگ ن کے مفادات۔ ن لیگ کےمفادمیں ہم کسی کےساتھ کھڑےہونےکوتیارنہیں۔
پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرپور کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر اعتماد کا اظہار کیا۔ گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی وہی اقدامات دہرائے گئے اور نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کیخلاف مہاجرین کی 12نشستیں استعمال کی گئیں۔ ظلم اور زیادتی کو جمہوریت کا نام دیا جا رہا ہے، جبکہ تباہی پھیلانے والے اسے امن کا نام دیتے ہیں۔کیاآپ سمجھتےہیں کہ ساری سیاسی جماعتیں بےوقوف ہیں۔
پیپلز پارٹی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ چوہدری یاسین دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں اور پارٹی اپنی تمام نشستیں واپس لینے کے لیے جدوجہد کرے گی۔ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے لیے مرحلہ وار طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ریاست سے سوال کیا کہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد۔ریاست کاہرفیصلہ ن لیگ کوترجیح دے رہاہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مفاد کے لیے پیپلز پارٹی کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں، یہ آزاد کشمیر ہے،اسےکبھی مقبوضہ کشمیر نہیں بننےدیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کسی دباؤ میں نہیں آئے گی، نہ پیچھے ہٹے گی اور نہ کسی کے سامنے جھکے گی۔ جمہوری عمل کے تحفظ کے لیے پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزادکشمیر میں احتجاج کرنےوالوں سےتاریخی غلطیاں ہوئیں۔ میرےپاس ایک راستہ ہےجس سےامن واپس آسکتاہے۔










