اہم ترین

جین زی کے احتجاج نے مودی کو ہلا ڈالا: برسوں میں بنی سیاسی ساکھ مٹی میں مل گئی

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی برسوں سے قائم مضبوط اور ناقابلِ شکست سیاسی شبیہ کو اب تک کے سب سے بڑے امتحان کا سامنا ہے، کیونکہ نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے دباؤ پر حکومت کو متعدد اہم مطالبات تسلیم کرتے ہوئے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے، بے ضابطگیوں اور روزگار کے محدود مواقع کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے نئی دہلی سے ملک کے مختلف شہروں تک زور پکڑا۔

آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا، جبکہ حکومت نے احتجاج کے دوران گرفتار مظاہرین کے خلاف مقدمات نہ چلانے سمیت کئی دیگر مطالبات بھی تسلیم کر لیے۔

بھارت کے سیاسی مبصرین کے مطابق 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ چند نادر مواقع میں سے ایک ہے جب عوامی دباؤ نے مودی حکومت کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئندہ برس کئی اہم ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

مودی کی سوانح عمری لکھنے والے معروف تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھیائے نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ غیر معمولی پیش رفت ہے کیونکہ مودی کی سیاسی شخصیت میں پیچھے ہٹنے کا رجحان نہیں رہا۔ یہ برانڈ مودی کے لیے 2001 سے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا ہے، جب مودی گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بن کر قومی سیاست میں ابھرے تھے۔ پچیس برس کی برانڈ بلڈنگ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور فوری طور پر اس کی تلافی آسان نظر نہیں آتی۔

ابتدا میں حکومت کو یقین تھا کہ احتجاج کو محدود رکھا جا سکے گا، تاہم 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی سخت کارروائی الٹا اثر دکھا گئی۔ اس واقعے کے بعد نوجوانوں کی تحریک کو ملک بھر میں وسیع حمایت ملی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج نوجوانوں کی مجموعی بے چینی، بے روزگاری اور مستقبل سے متعلق خدشات کی علامت بن گیا۔

اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں نے بھی مظاہرین کی حمایت کی، جبکہ پولیس کارروائی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جس کے باعث حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔

سیاسی مبصر اجے بوس کے مطابق ان نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ اگر آپ کھڑے ہوں تو کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خوف کی دیوار توڑ دی ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں نے یہ تاثر بھی کمزور کیا ہے کہ مودی اور ان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ناقابلِ شکست ہیں۔

اگرچہ حکومت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم مودی اب بھی ملکی سیاست کی طاقتور ترین شخصیت ہیں۔ حکومت نے بحران پر قابو پانے کے لیے امتحانی پرچوں کے افشا میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی پنجاب، گجرات اور اتر پردیش سمیت اہم ریاستوں کے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ منتشر بھارتی اپوزیشن کو بھی اس تحریک کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ایک نادر موقع ملا ہے، تاہم انتخابی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا اپوزیشن متحد ہو کر بی جے پی کا مقابلہ کر سکتی ہے یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق مودی حکومت کو صرف سیاسی محاذ پر ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ احتجاج نے یہ ظاہر کر دیا کہ سوشل میڈیا پر بی جے پی کی سابقہ برتری کمزور پڑ رہی ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن کے پروفیسر جویوجیت پال کے مطابق مودی حکومت نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مضبوط بنانے پر توجہ دی، مگر بدلتے ہوئے الگورتھمز اور نوجوانوں کے بدلتے رجحانات کو نظر انداز کر دیا۔ 28 جولائی 2026 تک بی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے تقریباً 96 لاکھ فالوورز تھے، جبکہ صرف مئی 2026 میں قائم ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

احتجاج کے دوران انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر میمز اور مختصر ویڈیوز کی بھرمار رہی، جس نے حکومتی بیانیے کو شدید چیلنج کیا۔ نوجوانوں سے رابطہ بڑھانے کی کوشش میں وزیرِ اعظم مودی نے سیلفی انداز میں دو مختصر ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں امتحانی پرچوں کے افشا میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا گیا، تاہم یہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا موضوع بن گئیں۔سوشل میڈیا اب بھارت کے چھوٹے شہروں تک پہنچ چکا ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے یہی وہ اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور اختلافِ رائے تیزی سے مقبول ہو سکتا ہے۔

پاکستان