اہم ترین

امریکی عدالت نے سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ہادی مطر کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دے دیا

امریکا کی ایک وفاقی جیوری نے گستاخ سلمان رشدی پر 2022 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے ملزم ہادی مطر کو دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

اگست 2022 میں ریاست نیویارک کے چوٹاکوا انسٹیٹیوشن میں ایک تقریب کے دوران ہادی مطر نے سلمان رشدی پر متعدد وار کیے تھے۔ حملے میں رشدی شدید زخمی ہوئے اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی۔

امریکی استغاثہ کے مطابق 28 سالہ لبنانی نژاد امریکی ہادی مطر نے کئی ماہ تک حملے کی منصوبہ بندی کی اور وہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے نظریات سے متاثر تھا۔ تفتیش کے دوران اس کے گھر سے حزب اللہ سے متعلق مواد بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جس کی بنیاد پر اسے تنظیم کی معاونت کے جرم میں بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔

استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ملزم نے 1989 میں ایران کے سابق رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جانب سے سلمان رشدی کے خلاف جاری کیے گئے فتوے سے متاثر ہو کر حملہ کیا۔ یہ فتویٰ رشدی کی کتاب “دی سیٹینک ورسز” کی اشاعت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

سلمان رشدی نے گزشتہ ہفتے وفاقی عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے حملے کی تفصیلات بیان کیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں یقین ہے کہ حملہ آور نے فتوے پر عمل کرتے ہوئے یہ اقدام کیا، تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں یقینی علم نہیں، تاہم انہیں ایسا شبہ ضرور ہے۔

ہادی مطر اس سے قبل ریاستی عدالت سے اقدامِ قتل کے جرم میں 25 سال قید کی سزا پا چکا ہے، جبکہ وفاقی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اسے عمر قید تک کی اضافی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کی سزا کا باضابطہ اعلان 3 نومبر کو متوقع ہے، جبکہ اس کے وکیل نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان