دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک رواں برس نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کانگریس پر گرفت برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی معاونت کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک اپنی سیاسی تنظیم امریکا پی اے سی کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی حمایت کے لیے 26 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق اس بار تنظیم کی توجہ گھر گھر انتخابی مہم، ڈیجیٹل اشتہارات اور براہِ راست ڈاک کے ذریعے ایسے قدامت پسند ووٹروں کو متحرک کرنے پر ہوگی، جو عام طور پر صدارتی انتخابات کے علاوہ دیگر انتخابات میں کم حصہ لیتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ اس مہم پر کتنی رقم خرچ کریں گے، جبکہ امریکا پی اے سی نے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی، معیشت سے متعلق خدشات اور ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کے باعث ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک اور صدر ٹرمپ کے درمیان تعلقات میں گزشتہ برس کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ مسک نے مختصر عرصے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (Department of Government Efficiency) کی سربراہی بھی کی، تاہم بعد ازاں حکومتی اخراجات سے متعلق قانون سازی پر اختلافات کے باعث دونوں کے درمیان علانیہ تنازع سامنے آیا، اور مسک نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
بعد ازاں انہوں نے دوبارہ ریپبلکن امیدواروں اور قدامت پسند سیاسی تنظیموں کو کروڑوں ڈالر کے عطیات دینا شروع کر دیے۔
دوسری جانب ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیاں قانونی تنازعات کا بھی سبب بنی ہیں۔ ایک وفاقی جج نے انہیں ان مقدمات میں بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیا ہے، جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکا پی اے سی نے 2024 کے انتخابات سے قبل سیاسی درخواست پر دستخط کرنے والے رجسٹرڈ ووٹروں کو روزانہ 10 لاکھ ڈالر انعام دینے کے وعدے کے حوالے سے گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔
مدعیان کا مؤقف ہے کہ انعام یافتگان کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے نہیں بلکہ تنظیم کے مؤثر ترجمان بننے کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اسی طرح ریاست وسکونسن میں بھی ایک عدالتی مہم کے دوران اسی نوعیت کی مالی پیشکش کو ممکنہ طور پر رشوت ستانی کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ارب پتی خاندان پہلے ہی سیکڑوں ملین ڈالر عطیہ کر چکے ہیں، جن کا بڑا حصہ ریپبلکن امیدواروں اور تنظیموں کو ملا ہے، اگرچہ ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی جارج اور الیکس سوروس، ریڈ ہوفمین اور مائیکل بلومبرگ جیسے بڑے عطیہ دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا پی اے سی کی نئی انتخابی مہم کی قیادت ایلون مسک کے سیاسی مشیر کرس ینگ کریں گے، جبکہ اسے دیگر ریپبلکن تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی توجہ ٹیلی ویژن اشتہارات پر زیادہ مرکوز رکھ سکیں۔











