اہم ترین

مراکش سے 24 گھنٹوں میں 50 ہزار تارکین وطن اسپین داخل، کوششوں کے دوران18 افراد ہلاک

مراکش سے اسپین کے شمالی افریقی خودمختار علاقے سیوٹا میں 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 49 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کے داخل ہونے سے شدید انسانی اور سکیورٹی بحران پیدا ہو گیا، جبکہ خطرناک سفر کے دوران کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے۔

اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق ہزاروں افراد نے سرحدی باڑ عبور کی یا سمندر کے راستے تیر کر سیوٹا پہنچنے کی کوشش کی۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر افراد ڈوب گئے، جبکہ بعض تاراخال ساحل پر موجود سرحدی باڑ کے قریب بھگدڑ میں جان سے گئے۔

صورتحال کے پیش نظر اسپین نے فوج کو سیوٹا تعینات کر دیا ہے تاکہ سول گارڈ کی معاونت، امن و امان کی بحالی اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا سکے۔ مقامی حکام کے مطابق شہر میں ہزاروں مہاجرین، جن میں بڑی تعداد غیر ہمراہ بچوں کی بھی شامل ہے، پارکوں، فٹ پاتھوں اور کھلے مقامات پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

سول گارڈ اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ راشد صبیحی نے اس صورتحال کو “سنگین انسانی بحران” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امدادی ٹیمیں زخمیوں کی دیکھ بھال اور دیگر انسانی خدمات میں مصروف ہیں، جبکہ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر داخلہ فرناندو گراندے مارلاسکا کے ہمراہ سیوٹا کے تاراخال سرحدی مقام کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ سیوٹا اور میلیلا افریقہ میں اسپین کے دو خودمختار علاقے ہیں اور یہی یورپ کی افریقی براعظم کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں۔ 2021 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے دوران دو دن میں 10 ہزار سے زائد مہاجرین سیوٹا پہنچ گئے تھے۔ حالیہ بحران ایک بار پھر اسپین اور مراکش کے درمیان سرحدی تعاون اور غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔

پاکستان