اہم ترین

گوگل نے گوگل ارتھ کا اے آئی امیج فیچر بند کردیا

گوگل نے شدید تنقید اور غلط معلومات پھیلنے کے خدشات کے پیشِ نظر گوگل ارتھ میں متعارف کرایا گیا نیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) فیچر عارضی طور پر واپس لے لیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین سیٹلائٹ تصاویر اور تھری ڈی نقشوں کی بنیاد پر اے آئی سے نئی تصویریں تخلیق کر سکتے تھے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اس سے حقیقت سے قریب تر جعلی سیٹلائٹ تصاویر بنا کر عوام کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔

گوگل کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس فیچر کو جغرافیائی معلومات کے شعبے میں کئی مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، لیکن بعض صارفین ایسی تصاویر شیئر کر رہے تھے جو کمپنی کی پالیسیوں سے متصادم دکھائی دیں۔ اسی لیے فیچر کو واپس لے کر اس میں مزید مؤثر حفاظتی اقدامات شامل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔

یہ کری ایٹ امیج فیچر گوگل کی نینو بنانا 2 اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی تھا، جس کا مقصد تاریخی مناظر کی تصوراتی تشکیل، رئیل اسٹیٹ منصوبہ بندی اور دیگر تخلیقی استعمالات کو آسان بنانا تھا۔ تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس اور غلط معلومات کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے ذریعے جنگوں، قدرتی آفات، فوجی تنصیبات یا سیاسی واقعات سے متعلق انتہائی حقیقت نما مگر جعلی سیٹلائٹ تصاویر تیار کی جا سکتی ہیں۔

ڈیجیٹل تحقیقاتی ماہر ہینک وان ایس نے کہا کہ گوگل ارتھ دو دہائیوں سے دنیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد حوالہ رہا ہے، مگر اس فیچر نے اسی پلیٹ فارم پر ایسی تصاویر بنانے کا راستہ کھول دیا جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔

امریکی تحقیقی ادارے کے تجزیہ کار بریڈی افریک کے مطابق ایسے جعلی مناظر نہ صرف عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں بلکہ صحافیوں، محققین اور حقائق جانچنے والے اداروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گے، کیونکہ اس سے سیٹلائٹ تصاویر پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

اگرچہ گوگل کا کہنا تھا کہ اے آئی سے تیار کی جانے والی تصاویر میں سنتھ آئی ڈی نامی ڈیجیٹل واٹرمارک شامل کیا گیا تھا، تاہم ناقدین کے مطابق صرف یہ حفاظتی اقدام کافی نہیں، کیونکہ ان تصاویر کے اسکرین شاٹس یا ترمیم شدہ ورژن سوشل میڈیا پر بغیر شناخت کے پھیل سکتے ہیں۔

اے ایف پی کی آزمائش میں یہ فیچر پیرس میں دھماکے، ایران میں جوہری تنصیب، روس میں بمباری، بنگلہ دیش میں سیلاب اور دیگر فرضی مناظر تخلیق کرنے میں کامیاب رہا، جس سے اس کے غلط استعمال کے خدشات مزید بڑھ گئے۔

ماہرین نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر حقیقی اثرات مرتب کر چکی ہیں، جن میں 2023 میں پینٹاگون میں دھماکے کی جعلی تصویر کے باعث مالیاتی منڈیوں میں وقتی بے چینی پیدا ہونا بھی شامل ہے۔

تنقید کے بعد گوگل نے گوگل ارتھ سے کری ایٹ امیج کا بٹن ہٹا دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے فیچر کو اس وقت تک دوبارہ متعارف نہیں کرایا جائے گا جب تک اس کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات تیار نہیں کر لیے جاتے۔

پاکستان