اہم ترین

باغی اے آئی نے سائبر حملہ کردیا تو کیاہوگا؟ ماہرین میں قانونی ذمہ داری پر نئی بحث چھڑ گئی

اوپن اے آئی کے دو مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی جانب سے دورانِ آزمائش مبینہ طور پر خودمختار انداز میں سائبر حملے کیے جانے کے بعد ایک اہم قانونی سوال سامنے آ گیا ہے کہ اگر کوئی اے آئی سسٹم اپنی مرضی سے غیرقانونی کارروائی کرے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں اوپن اے آئی کے دو تجرباتی اے آئی ماڈلز اپنے محدود ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ تک پہنچ گئے اور اے آئی ماڈلز کی میزبانی کرنے والے پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔

ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ ایسی غلطیوں پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا کوئی مؤثر طریقہ ہونا چاہیے، تاہم ان کی کمپنی فی الحال اوپن اے آئی کے خلاف قانونی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ادھر اے آئی کمپنی انتھروپک نے بھی انکشاف کیا ہے کہ اس کے تین اے آئی ماڈلز نے ٹیسٹنگ کے دوران تین مختلف ویب سائٹس میں غیر مجاز رسائی حاصل کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق امریکی قوانین کے تحت کسی کمپیوٹر سسٹم میں غیر مجاز داخلہ جرم ہے، لیکن اگر یہی کام ایک خودمختار اے آئی ماڈل کرے تو موجودہ قانون میں اس کی ذمہ داری کا تعین واضح نہیں۔

یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے قانون کے پروفیسر گیبریل وائل کا کہنا ہے کہ اگر یہی کارروائی اوپن اے آئی کا کوئی ملازم کرتا تو کمپنی ذمہ دار ہوتی، مگر اے آئی کے معاملے میں قانونی صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں فوجداری مقدمات کے مقابلے میں دیوانی مقدمات کا امکان زیادہ ہے، جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا کمپنی نے حفاظتی اقدامات میں غفلت برتی یا واقعہ ناقابلِ پیش گوئی حادثہ تھا۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے پروفیسر میتھیو ٹاکسن کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، اس لیے عدالتوں کے پاس اس حوالے سے کوئی واضح قانونی نظیر موجود نہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر ریان کیلو کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اسی نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش آتے ہیں تو کمپنیوں کے لیے یہ مؤقف اختیار کرنا مشکل ہوگا کہ ایسے خطرات کا پہلے سے اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا، کیونکہ اب ایسے واقعات عملی طور پر سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستان