اہم ترین

اے آئی بوم سے دنیا بھر میں میموری چپس کا بحران : لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز مزید مہنگے ہونے کا خدشہ

ہانگ کانگ: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے باعث دنیا بھر میں میموری چپس کی قلت شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں گاڑیاں بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کے چیف فنانشل آفیسر کے مطابق ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے والی میموری چپس کی قلت 2027 میں مزید سنگین ہو جائے گی اور کم از کم 2028 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

صنعتی ماہرین نے اس بحران کو ریماگیڈن کا نام دیا ہے، کیونکہ چپ ساز کمپنیاں زیادہ منافع بخش ہائی بینڈوڈتھ میموری (ایچ بی ایم) کی تیاری پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام کمپیوٹرز میں استعمال ہونے والی ریم اور ڈی ریم چپس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

ہانگ کانگ کے وان چائی کمپیوٹر سینٹر کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ صارفین قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر حیران ہیں، اس لیے انہوں نے دکانوں میں خبروں کے تراشے آویزاں کر رکھے ہیں تاکہ خریداروں کو قیمتیں بڑھنے کی وجہ سمجھائی جا سکے۔

ایک کمپیوٹر فروش کے مطابق 16 جی بی ریم، جس کی قیمت پہلے 300 سے 400 ہانگ کانگ ڈالر تھی، اب بڑھ کر تقریباً 1500 ہانگ کانگ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس اضافے کے باعث بہت سے صارفین یا تو خریداری مؤخر کر رہے ہیں یا کم صلاحیت والے متبادل پر اکتفا کر رہے ہیں۔

مارکیٹ ریسرچ ادارے ٹرینڈ فورس کے مطابق ایک سال کے دوران کمپیوٹرز اور اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی میموری چپس کی قیمتیں تقریباً پانچ سے چھ گنا تک بڑھ چکی ہیں۔

دوسری جانب اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے دنیا کی بڑی میموری چپ بنانے والی کمپنیوں، جن میں سام سنگ، ایس کے ہائنکس اور مائکرون شامل ہیں، کو ریکارڈ منافع حاصل ہو رہا ہے، جبکہ چین کی کمپنی چانگ ژنگ میموری ٹیکنالوجیز (سی ایکس ایم ٹی)( ) بھی اس شعبے میں تیزی سے ابھر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید اے آئی چپس میں چین ابھی عالمی رہنماؤں سے پیچھے ہے، تاہم روایتی ریم اور ڈی ریم کی محدود سپلائی اسے مارکیٹ میں بہتر مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

ادھر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹمز کی لاگت بڑھ رہی ہے، جس کے باعث مستقبل قریب میں نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے چپ انڈسٹری میں غیر معمولی سرمایہ کاری کو جنم دیا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عام صارفین کو مہنگی الیکٹرانکس اور محدود دستیابی کی صورت میں قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

پاکستان