بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے مسلمان جوڑے کی طلاق سے متعلق کیس میں فیصلہ دیا ہے کہ کسی مذہبی ادارے یا دارالافتاء کی جانب سے جاری کردہ فتوے کی بنیاد پر فیملی کورٹ سے طلاق کی ڈگری حاصل نہیں کی جا سکتی۔
بھارتی نیوز ویب سائیٹ ٹی وی 9 کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں ہائیکورٹ کے جسٹس وویک جین کی سربراہی میں سنگل بینچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ کوئی بھی مذہبی ادارہ یا دارالافتاء کسی مسلم مرد کو طلاق دینے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔
بھارتی ہائی کورٹ کے مطابق فتویٰ صرف مذہبی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے، یہ خود طلاق کا قانونی حکم یا عدالتی فیصلہ نہیں بن سکتا۔
ویب سائیٹ کے مطابق یہ معاملہ سید سمیع علی اور ڈاکٹر شازیہ نواز خان کے درمیان طلاق کے تنازع سے متعلق تھا۔ شوہر نے بھوپال کی دارالافتاء مسجد کمیٹی سے طلاق کے معاملے پر رائے طلب کی تھی، جس کے بعد جاری کیے گئے فتوے کو بنیاد بنا کر فیملی کورٹ میں طلاق کی ڈگری کے لیے درخواست دائر کی گئی۔
بیوی نے اس درخواست کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فتویٰ قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ فیملی کورٹ کی جانب سے درخواست مسترد ہونے کے بعد معاملہ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ پہنچا۔
عدالت نے قرار دیا کہ فتوے کی بنیاد پر طلاق کی ڈگری طلب کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، تاہم شوہر کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق فیملی کورٹ میں ازسرنو طلاق کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔
ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صرف مسلم خواتین ہی طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔ عدالت کے مطابق مسلم مرد بھی فیملی کورٹ ایکٹ 1984 کے تحت طلاق کے لیے قانونی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔











