اہم ترین

بچوں کے تحفظ میں ناکامی: امریکا میں میٹا کو 159 ارب روپے کا جرمانہ

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کی حفاظت میں ناکامی اور انہیں ممکنہ خطرات سے دوچار کرنے پر 56 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر (567 ملین ڈالر) ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 159 ارب روپے بنتے ہیں۔

عدالت نے مالی جرمانے کے ساتھ میٹا کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ بچوں اور کم عمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کی متعدد فیچرز پر پابندیاں عائد کرے تاکہ ان کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ فیصلہ اسی مقدمے کا تسلسل ہے جس میں مارچ 2026 میں جیوری نے میٹا کو نوجوان صارفین کو آن لائن شکاریوں کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ تازہ فیصلے کے بعد مجموعی جرمانہ 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 264 ارب روپے بنتا ہے۔

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے فیصلے کو والدین اور بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بچوں کی سلامتی کو نظر انداز کر کے منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر لامحدود اسکرولنگ، آٹو پلے، لائکس کی گنتی، مسلسل نوٹیفکیشنز اور الگورتھمک سفارشات جیسے فیچرز کم عمر صارفین کو غیر ضروری طور پر زیادہ وقت آن لائن گزارنے پر آمادہ کرتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

فیصلے کے تحت 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے ماہانہ استعمال کی حد تقریباً 90 گھنٹے مقرر کرنے، اسکول کے اوقات میں بعض نوٹیفکیشنز بند رکھنے، لائکس کی تعداد چھپانے اور 13 سال سے کم عمر بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹ بنانے سے روکنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جرمانے کا تقریباً تین چوتھائی حصہ بچوں کی ذہنی صحت کے علاج کے فنڈ پر خرچ کیا جائے، جبکہ باقی رقم آگاہی، حفاظتی پروگراموں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہوگی۔

دوسری جانب میٹا نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اس کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ نوجوان صارفین کی آن لائن حفاظت کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

پاکستان