اہم ترین

حکومت پیٹرولیم لیوی وصولی میں ہدف سے بھی آگے: ایک سال میں 1567 ارب روپے لے لئے

وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2025-26 کی فسکل آپریشنز رپورٹ جاری کر دی، جس میں حکومتی اخراجات، محصولات، مالیاتی خسارے، پیٹرولیم لیوی اور صوبائی کیش سرپلس سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے کفایت شعاری اور رائٹ سائزنگ کے دعووں کے باوجود سول حکومت چلانے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ پہلی بار ایک ہزار ارب روپے کی حد عبور کر گئے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں سول حکومت چلانے کے اخراجات 16 فیصد اضافے کے ساتھ 1033 ارب روپے رہے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ اخراجات 892 ارب روپے تھے۔

دفاعی اخراجات میں بھی گزشتہ مالی سال نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دفاعی اخراجات 18 فیصد بڑھ کر 2588 ارب روپے ہوگئے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ اخراجات 2194 ارب روپے رہے تھے۔

دوسری جانب صوبوں کے ریکارڈ کیش سرپلس اور شرح سود میں کمی کے باعث مجموعی مالیاتی خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد رہا، جو مالی سال 2003 کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں کل محصولات کی وصولی جی ڈی پی کے 15.6 فیصد رہی، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 13,010 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کی۔ ایف بی آر کی وصولی بجٹ ہدف سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، تاہم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔

محصولات کی وصولی میں کمی کے باوجود صوبوں کے تاریخی بجٹ سرپلس نے مجموعی مالیاتی خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مالی سال 2025-26 میں صوبوں نے مرکز کو 1450 ارب روپے کا ریکارڈ کیش سرپلس فراہم کیا، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ رقم 921 ارب روپے تھی۔ یوں صوبائی کیش سرپلس میں 57 فیصد اضافہ ہوا۔

قومی مالیاتی معاہدے کے تحت صوبوں کی جانب سے مرکز کو 1380 ارب روپے کا کیش سرپلس فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم صوبوں نے اس ہدف سے 529 ارب روپے زائد رقم فراہم کی۔

صوبوں میں سب سے زیادہ کیش سرپلس پنجاب نے فراہم کیا، جس نے 915 ارب روپے مرکز کو دیے۔ سندھ نے 350 ارب روپے، خیبر پختونخوا نے 165 ارب روپے جبکہ بلوچستان نے 20.74 ارب روپے کا سرپلس ریکارڈ کیا۔

رپورٹ میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں بھی بڑا اضافہ سامنے آیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے کی ریکارڈ وصولی ہوئی، جو گزشتہ مالی سال کے 1220 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد زیادہ ہے۔ پیٹرولیم لیوی کا بجٹ ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، یوں وصولی ہدف سے بھی تجاوز کر گئی۔

گزشتہ مالی سال کاربن لیوی کے ذریعے بھی 26 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔

رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف حکومت کے سول اور دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب صوبائی سرپلس، پیٹرولیم لیوی اور شرح سود میں کمی نے مالیاتی خسارے کو کم ترین سطح پر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان