یمن میں جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے اور ایران نواز حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم بندرگاہی شہر موخا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ حوثی جنگجوؤں کی شہر میں پیش قدمی کے دوران ’’امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔
یمنی فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ہفتے سے حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ موخا پر قبضے کے بعد حوثی جنگجو اب اہم باب المندب آبنائے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
باب المندب کی طرف پیش قدمی
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت ہوتی ہے۔ اس راستے کی اہمیت حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران مزید بڑھ گئی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد۔
حوثیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع زُقر جزیرے پر بھی قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جزیرے پر راکٹ حملوں کے بعد کشتیوں کے ذریعے جنگجو اتارے گئے اور زمینی کارروائی کی گئی۔
حکومتی فورسز کو بڑا دھچکا
موخا کا دفاع کرنے والی یمنی نیشنل ریزسٹنس فورسز کے سربراہ طارق صالح نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا کمانڈ سینٹر ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے تاکہ دوبارہ منظم ہوکر کارروائی کی جاسکے۔
ان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران حکومتی فورسز کو حوثیوں کے منظم حملوں کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
حوثیوں کی موخا اور قریبی علاقوں میں پیش قدمی کے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنے گھر چھوڑ کر عدن کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت موجود ہے۔
مقامی شہریوں نے شہر کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ فرار ہونے والے بعض خاندانوں کو راستے میں لوٹ مار کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن میں جاری لڑائی کے نتیجے میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر جنگجو شامل ہیں، جبکہ عالمی ادارۂ مہاجرت کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
ادھر سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے۔
دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے یمن کے طائز، حدیدہ، الجوف اور ماریب سمیت مختلف علاقوں میں تقریباً 40 فضائی حملے کیے۔
بحیرۂ احمر کی کشیدگی میں اضافہ
ماہرین کے مطابق اگر حوثی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب مزید مضبوط ہوگئے تو خطے میں بحری تجارت اور جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ پہلے ہی حوثی ڈرونز اور میزائل حملوں کے ذریعے بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت متاثر کرچکے ہیں۔
یمن میں دوبارہ بھڑکنے والی یہ جنگ اس خدشے کو بھی بڑھا رہی ہے کہ ملک ایک بار پھر اس طویل تنازع کی طرف لوٹ سکتا ہے جس نے ماضی میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اور دنیا کے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا۔


