وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی نئی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فلم کے اسرائیلی ہدایت کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 24 سابق یا موجودہ اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر غزہ میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔
فلم کی تیاری میں تقریباً تین سال لگے۔ اس میں اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار مبینہ طور پر بتاتے ہیں کہ غزہ میں وسیع پیمانے پر نگرانی کے نظام کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر حملوں کے لیے افراد کی شناخت کیسے کی جاتی تھی۔
فلم کے شریک ہدایت کار یووال ابراہم کے مطابق مقصد یہ تھا کہ کارروائیوں میں شامل اہلکار خود بتائیں کہ غزہ میں ہلاکتوں کے لیے استعمال ہونے والے نظام کس طرح کام کرتے تھے۔
ناز‘ نام کیوں رکھا گیا؟
دستاویزی فلم کا نام نازا اسرائیلی انٹیلی جنس میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح سے لیا گیا ہے، جس کے بارے میں فلم سازوں کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے میں ممکنہ طور پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی متوقع تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
فلم سازوں کے مطابق غزہ کے مواصلاتی نظام کی بڑے پیمانے پر نگرانی اور اےآئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے درمیان براہ راست تعلق موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی نظام کے ذریعے حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی کی جاتی رہی۔
غزہ جنگ پر نئی دستاویزی فلم
فلم میں غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور اسرائیلی فوجی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 73 ہزار 500 فلسطینی جاں بحق اور 174 ہزار 500 زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی وزارت صحت کے ان اعدادوشمار کو قابل اعتماد قرار دے چکا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بناتا اور حماس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ گنجان آباد علاقوں میں شہری آبادی کے درمیان موجود ہے۔
آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز
نازاکے ہدایت کار یووال ابراہم اور ریچل زور اس سے قبل فلسطینی فلم سازوں کے ساتھ مل کر بنائی گئی دستاویزی فلم نوادر لینڈ ‘ پر 2025 میں آسکر ایوارڈ جیت چکے ہیں۔
فلم سازوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نئی دستاویزی فلم کے ذریعے مغربی ممالک میں غزہ جنگ کے حوالے سے پالیسی اور اسرائیل کی حمایت پر نظرثانی کے لیے دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔
وینس میں غزہ جنگ پر توجہ
نازا وینس فلم فیسٹیول کے مقابلے میں شامل واحد دستاویزی فلم ہے۔ رواں برس فیسٹیول میں غزہ جنگ سے متعلق متعدد فلمیں پیش کی گئی ہیں، جسے فلم ساز اور ناقدین جنگ کے بارے میں مغربی معاشروں میں بدلتے ہوئے عوامی مؤقف کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
فلم سازوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں غیرملکی صحافیوں کی آزادانہ رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی صورتحال کی رپورٹنگ مزید مشکل رہی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم (سی پی جے) کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں 200 سے زائد فلسطینی صحافی مارے جا چکے ہیں۔


