عمران طاہر ٹی20 میں 5 وکٹیں لینے والےعمر رسیدہ کھلاڑی بن گئے

کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں پاکستانی نژاد جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر نے اپنی شاندار کارکردگی سے ٹی20 کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کردی۔ 47 سال کی عمر میں عمران طاہر ٹی20 کرکٹ میں پانچ وکٹیں لینے والے سب سے عمر رسیدہ بولر بن گئے۔

گُیانا ایمیزون واریئرز کے کپتان عمران طاہر نے 9 ستمبر کو پروویڈنس میں سینٹ لوشیا کنگز کے خلاف تباہ کن اسپیل کرتے ہوئے صرف 17 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کے کیریئر کا یہ بہترین ٹی20 باؤلنگ اسپیل بھی ہے۔

عمران طاہر نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے بیٹے کو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا مسلسل انہیں کھیل جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’ڈیڈی، ایک سال اور، پھر آپ کو میرے ساتھ کھیلنا ہے۔‘‘

عمران طاہر کے مطابق بیٹے کی یہی خواہش انہیں کھیل کے میدان میں متحرک رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا بھر میں انہیں دیکھنے والے نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔

سینٹ لوشیا کنگز کے خلاف عمران طاہر نے اپنی گھومتی گیندوں سے بلے بازوں کو مسلسل پریشان کیے رکھا۔ انہوں نے مختلف انداز کی لیگ اسپن، گوگلی اور سیدھی گیندوں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے حریف بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔

عمران طاہر کا کہنا تھا کہ پروویڈنس کی پچ پر گیند کو مناسب ٹرن مل رہا تھا، تاہم ان کی کامیابی میں درست لائن اور لینتھ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب گیند ان کے ہاتھ سے اچھی طرح نکلتی ہے تو بلے بازوں کو مختلف گیندوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

عمران طاہر کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت سینٹ لوشیا کنگز کی ٹیم 119 رنز تک محدود رہی، جس کے بعد گُیانا ایمیزون واریئرز نے ہدف حاصل کرلیا۔ کوئنٹن سیمپسن نے صرف 11 گیندوں پر ناقابلِ شکست 37 رنز بنا کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

عمران طاہر نے سیمپسن کی جارحانہ بیٹنگ کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم میں ایسے کئی کھلاڑی موجود ہیں جو چند گیندوں میں میچ کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایمیزون واریئرز پہلے ہی سی پی ایل کے پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے اور اب گروپ مرحلے کے اپنے اہم میچ میں ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو نائٹ رائیڈرز کا سامنا کرے گی۔ عمران طاہر نے کہا کہ گُیانا کے شائقین کی بھرپور حمایت انہیں ہمیشہ مزید بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے حوصلہ دیتی ہے۔