حوثی جنگجوؤں نے یمن کی پوری بحیرۂ احمر سے متصل ساحلی پٹی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس کے بعد گروپ نے خطے کی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ہے۔
بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مغربی ساحل پر حکومت کے زیرِ کنٹرول تمام علاقے حوثیوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں واقع اہم جزیرے میون کے علاوہ گریٹر ہنیش اور لیزر ہنیش جزائر پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ان علاقوں پر قبضے کے بعد حوثیوں کی بحیرۂ احمر میں موجودگی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔
باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں حوثیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نئے خدشات پیدا کرسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی کا ایک اہم مقصد سعودی عرب کی تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھانا بھی ہے۔ اس نئی صورتحال نے یمن کی جنگ کو ایک نئے محاذ پر پہنچا دیا ہے اور خطے میں جاری ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بھی اسے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانس 24 کی نمائندہ نوگا ٹورناپولسکی نے صورتحال کو امریکا اور مغرب کے لیے ایک “بڑی منفی تبدیلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم جزیرے پر حوثیوں کا قبضہ جنگ میں ایک نیا محاذ کھولنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق جمعرات کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن پر متعدد حملوں کے بعد پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جبکہ بعض افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
حوثیوں کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ 3 ستمبر سے سعودی قیادت میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 82 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
یمن میں طویل عرصے سے جاری جنگ اب بحیرۂ احمر کی اہم بحری گزرگاہوں، تیل کی ترسیل اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی سے جڑ گئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور اہم جزائر پر کنٹرول مستحکم کرنے سے خطے میں مستقبل میں بحری آمدورفت اور توانائی کی عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔


