ایندھن بچت مہم: بازار 9، شادی ہال 10 اور ریسٹورنٹس 11 بجے بند کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور اخراجات میں کمی کے لیے اضافی کفایت شعاری اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ ڈویژن نے ان اقدامات پر فوری عملدرآمد سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

شادی کی تقریبات میں صرف ون ڈش کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب فارمیسی، اسپتال، کلینک، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس، بیکری، تندور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم اوقاتِ کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ مالی سال 2026-27 کے دوران نان ای آر ای بجٹ میں بھی 5 فیصد کمی کی جائے گی، جسے ماہانہ بنیادوں پر لاگو کیا جائے گا، تاہم ترقیاتی منصوبے اس کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

حکومت نے تمام اقسام کی نئی گاڑیوں اور پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم آئی ٹی سے متعلق خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوگی۔

کفایت شعاری اقدامات کے تحت تین ماہ کے لیے بیرون ملک تمام سرکاری دوروں اور سفری اخراجات پر پابندی ہوگی۔ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی میں شامل ہوں گے، جبکہ اسکالرشپس کے تحت ہونے والے دوروں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی ہوگی، جبکہ سرکاری فنڈز سے سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کیے جائیں گے۔

یہ کفایت شعاری اقدامات بیرون ملک پاکستانی مشنز پر بھی لاگو ہوں گے، تاہم تعینات افسران و اہلکاروں کے رہائشی کرائے، تعلیمی فیس اور طبی سہولیات سے متعلق واجبات معمول کے مطابق پورے کیے جائیں گے۔