مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور انسانی وجود کے لیے خدشات سے متعلق حالیہ وارننگز کے باوجود اینتھروپک کے رواں سال آئی پی او لانے کی توقع ہے، جبکہ حریف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنا آئی پی او 2027 تک مؤخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں اے آئی ماڈلز کی حفاظت سے متعلق بحث اس وقت شدت اختیار کرگئی جب اینتھروپک کے ایک ملازم جیکب کوکسن نے استعفیٰ دے کر خبردار کیا کہ اے آئی صنعت انسانی زندگیوں کے ساتھ خطرناک تجربہ کر رہی ہے۔ کوکسن اس سے قبل اوپن اے آئی کے ساتھ بھی کام کرچکے ہیں۔
اس معاملے نے اینتھروپک کے اندر بھی تشویش کو نمایاں کیا۔ کمپنی کے بعض ملازمین نے اے آئی کے باعث انتہائی سنگین خطرات، حتیٰ کہ انسانی نسل کے خاتمے کے ایک محدود امکان پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔
اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں ماہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے پر زور دیا، تاہم ان کے بیان میں کمپنی کے آئی پی او سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
سرمایہ کاروں کے لیے خطرات ظاہر کرنا لازم
رپورٹ کے مطابق آئی پی او سے قبل کمپنیوں کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو کاروباری خطرات سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ اب یہ سوال زیر بحث ہے کہ اینتھروپک اور اوپن اے آئی اپنی سیکیورٹیز فائلنگز میں اے آئی کے ممکنہ انتہائی خطرات کو کس انداز میں بیان کریں گی۔
وینچر کیپیٹلسٹ چماتھ پالی ہاپیٹیا کے مطابق اگر کمپنی سے متعلق سنگین خطرات کی باتیں درست ثابت ہوئیں تو سرمایہ کار کمپنی کی قدر میں نمایاں رعایت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
تاہم الٹی میٹر کیپیٹل کے بانی بریڈ گرستنر نے خدشات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی پی او سرمایہ کاروں کے لیے کمپنی میں مزید شفافیت لاتا ہے اور مارکیٹ خطرات کی قیمت متعین کرنا جانتی ہے۔
اوپن اے آئی کا آئی پی او 2027 تک مؤخر
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ کمپنی اپنا آئی پی او 2027 تک مؤخر کرے گی۔ انہوں نے موجودہ حالات میں آئی پی او کو بروقت قدم قرار نہیں دیا۔
اس کے باوجود اوپن اے آئی کی کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی آئی پی او سے قبل نئی سرمایہ کاری کے ذریعے کم از کم 1.2 ٹریلین ڈالر کی ویلیوایشن حاصل کرنے کے لیے بات چیت کررہی ہے، جبکہ اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او میں کمپنی کی ویلیوایشن 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
اے آئی صنعت پر بڑے سرمایہ کاروں کی نظریں
اینتھروپک اور اوپن اے آئی میں بڑی ٹیک کمپنیوں کی نمایاں سرمایہ کاری بھی موجود ہے، جن میں مائیکرو سافٹ، ایمازون، گوگل اوراین ویڈیا شامل ہیں۔ اسی لیے دونوں کمپنیوں کے آئی پی او کی کامیابی یا ناکامی کا اثر صرف اے آئی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ٹیکنالوجی مارکیٹ اور وسیع تر امریکی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کی چیف فنانشل آفیسر سارہ فریئر نے اے آئی کی ترقی کی رفتار کم ہونے کے خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پہلے ہی دستیاب مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بہت وسیع ہے۔
دوسری جانب اینتھروپک کی پالیسی سربراہ سارہ ہیک نے کہا کہ حفاظت کمپنی کے قیام سے ہی اس کی بنیادی ترجیح رہی ہے اور سرمایہ کار و صارفین اس پالیسی سے آگاہ ہیں۔


