امریکا اور یمن کے حوثی گروپ انصار اللہ کے درمیان براہِ راست رابطوں اور مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ پیش رفت یمن کے تنازع اور خطے میں جاری کشیدگی کی نئی سمت کا اشارہ دے سکتی ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ یمن میں حالیہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکی نمائندوں نے حوثی نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کی۔
اومان میں امریکی سفارت خانے میں ہونے والی ایک ملاقات میں حوثیوں نے مبینہ طور پر یقین دہانی کرائی کہ وہ بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن کے اطراف موجود امریکی یا اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
اومان نے مذاکرات میں کردار ادا کیا
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی امریکی اور حوثی نمائندوں کے درمیان براہِ راست ملاقات کی اطلاع دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل علاقوں میں حوثیوں کی تیز پیش قدمی کے بعد ہوا۔
اومان نے دونوں فریقوں کے درمیان ملاقات کے انتظام میں معاونت کی۔ عمان طویل عرصے سے یمن کے تنازع میں ثالثی کے لیے رابطے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ حوثیوں نے فون پر ان کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی تھی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ واشنگٹن حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے۔
سعودی عرب کے لیے نئی صورتحال
یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔
حوثیوں نے اس سے قبل سعودی بحری جہازوں کے خلاف مبینہ بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد متعدد سعودی بحری جہازوں کو مبینہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا یا انہیں اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے۔
امریکی حکام نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو حوثیوں کے ساتھ ہونے والے رابطوں اور مذاکرات سے آگاہ کردیا ہے۔
سعودی قیادت حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے امریکا سے مزید فوجی مدد حاصل کرنے کی کوشش بھی کررہی تھی۔ ایسے میں واشنگٹن اور حوثیوں کے براہِ راست رابطے ریاض کے لیے اہم سفارتی اور سکیورٹی سوالات پیدا کرسکتے ہیں۔
پاکستان اور ترکیے کا مؤقف
دوسری جانب مکہ دفاعی اتحاد کے رکن پاکستان اور ترکی نے یمن میں کسی بھی جنگی کارروائی میں براہِ راست حصہ لینے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور برطانیہ نے بھی حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔
یوں ایک طرف یمن میں لڑائی اور سعودی بحری تنصیبات و جہازوں کو لاحق خطرات برقرار ہیں، تو دوسری جانب امریکا اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست رابطے خطے میں جاری کشیدگی کو سفارتی راستے سے کم کرنے کی ایک نئی کوشش کے طور پر سامنے آئے ہیں۔


