کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے نے علاقے کو سوگوار کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے گیٹ کے قریب بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، جس کے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔ بعد ازاں اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب ایک اور خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دھماکے کے بعد پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پولیس لائنز کے احاطے میں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ حکام کے مطابق ایک اسنائپر سمیت متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ پر اضافی ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار بھی پہنچے۔ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
دھماکے کے بعد کوہاٹ۔ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا، جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں جاری رکھیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کی نوعیت اور وجوہات سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور تمام دستیاب طبی وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔


