الجزیرہ کے مطابق یمن کی حکومت کے حامی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شمالی صوبے الجوف میں حوثیوں کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس میں گرائے گئے ڈرون کے مناظر موجود ہیں۔
دوسری جانب یمن کے تنازع اور حوثیوں کی کارروائیوں کا اثر باب المندب آبنائے میں بحری ٹریفک پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ شپنگ کمپنی ونڈورڈ کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی سے قبل اس راستے سے روزانہ تقریباً 35 بحری جہاز گزرتے تھے، جو بعد میں کم ہو کر تقریباً 25 رہ گئے۔
تاہم تازہ اعداد و شمار کے مطابق بحری آمدورفت دوبارہ بحال ہوئی ہے اور اتوار کو تقریباً 45 روزانہ ٹرانزٹس ریکارڈ کیے گئے۔
مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کار ویلنٹن ڈی اوتھائی نے الجزیرہ کو بتایا کہ فی الحال حوثیوں کی توجہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں اور آئل ٹینکرز پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
ان کے مطابق مستقبل میں حوثی ان جہازوں کے دائرے کو وسیع کرسکتے ہیں جنہیں وہ سعودی عرب سے منسلک سمجھتے ہیں، جس سے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پس منظر میں سعودی عرب سے تنازع
حوثیوں کا ایک اہم مطالبہ سعودی عرب کی جانب سے ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر عائد طویل عرصے سے جاری بحری اور زمینی پابندیوں/محاصرے میں نرمی یا خاتمہ رہا ہے۔
یوں ایک طرف یمن کے اندر ڈرون اور عسکری کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف باب المندب کے اہم بحری راستے پر جہاز رانی اور سعودی مفادات سے جڑے بحری جہاز ایک بڑے علاقائی تنازع کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔


