ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر اس ٹیکنالوجی کے مؤثر ضابطے اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت چند بڑی کمپنیوں اور محدود تعداد میں ممالک کے ہاتھوں میں مرکوز رہی تو اس کے عالمی خوشحالی اور جمہوریت پر منفی، حتیٰ کہ ’’تباہ کن‘‘ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
میڈرڈ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ بے ضابطہ، غیر شفاف اور چند ہاتھوں میں مرتکز مصنوعی ذہانت تباہی کا بہترین نسخہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود ضابطگی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خود ضابطگی کام نہیں کرتی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے معاملے پر عالمی سطح پر تعاون اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
سانچیز کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی ایسی ہونی چاہیے جس کا مرکز انسانی فلاح اور اجتماعی خوشحالی ہو، تاکہ زیادہ منصفانہ معاشروں کی تشکیل میں مدد مل سکے۔ انہوں نے اسپین میں مصنوعی ذہانت کے لیے 12 ماہ کے ایک منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد سول سوسائٹی کے تعاون سے اے آئی کے لیے ایک ’’نئے سماجی معاہدے‘‘ کی تشکیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں لوگوں کو روزگار اور روزمرہ زندگی میں مصنوعی ذہانت سے آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
مصنوعی ذہانت کے خطرات پر عالمی بحث ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب بڑی اے آئی کمپنیوں کے بعض سابق ملازمین نے بھی ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بعض نے تو اسے انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ قرار دینے تک کی بات کی ہے۔
سانچیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اے آئی کے معاملے پر بھی اختلافات نمایاں ہیں۔ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانیت کے خاتمے کے خدشات کو مسترد کیا ہے اور تیزی سے ترقی کرتی اس ٹیکنالوجی پر مزید سخت کنٹرولز کی بعض تجاویز کی مخالفت کی ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم پہلے ہی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ رواں برس فروری میں ان کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا منصوبہ بھی پیش کیا تھا، جس پر سانچیز کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض سربراہان، بشمول ایلون مسک، سے اختلافات سامنے آئے تھے۔
اس کے علاوہ ہسپانوی حکومت نے ایکس، میٹا اور ٹک ٹاک کے خلاف اے آئی سے تیار کردہ بچوں سے متعلق فحش مواد کے ممکنہ جرائم کے حوالے سے تحقیقات کے لیے استغاثہ سے بھی رجوع کیا ہے۔


