علیمہ خان 30 روز کے لیے نظر بند

عمران خان کی بہن علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا، پی ٹی آئی کا گرفتاری پر احتجاج اور فوری رہائی کا مطالبہ

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (تھری ایم پی او) کے تحت ان کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی مختلف انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کی گئی، جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ علیمہ خان کی سرگرمیاں امن و امان کی صورت حال کو متاثر کرسکتی ہیں۔ انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔

حکام کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں پولیس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ علیمہ خان 9 مئی کے احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسانے کے واقعات میں ملوث رہی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کرنے سے امن و امان کی صورت حال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان الزامات پر علیمہ خان کا مؤقف دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے علیمہ خان کی گرفتاری اور نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج پُرامن اور سیاسی ہوگا اور جماعت کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتی۔ انہوں نے علیمہ خان کی فوری رہائی اور ایسے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مقصد پارٹی بانی عمران خان کی رہائی اور آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا بتایا گیا ہے۔ مارچ سے قبل دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف داخلی راستوں پر کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔