آسمان کی طرف دیکھیں تو ہزاروں سیٹلائٹ زمین کے گرد مسلسل گردش کرتے دکھائی نہیں دیتے، لیکن حقیقت میں وہ خاموشی سے خلا میں اپنے مدار پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کی مضبوط کششِ ثقل انہیں اپنی طرف کیوں نہیں کھینچ لیتی؟
حقیقت میں سیٹلائٹ زمین سے باہر کسی جگہ ساکن ہو کر نہیں لٹکے ہوتے بلکہ وہ مسلسل زمین کی طرف گر رہے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کی افقی رفتار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زمین کی سطح جتنی تیزی سے ان کے نیچے خم کھاتی ہے، سیٹلائٹ بھی اتنی ہی تیزی سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یوں وہ زمین سے ٹکرانے کے بجائے مسلسل اس کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے۔
سیٹلائٹ مدار میں کیسے پہنچتا ہے؟
سیٹلائٹ کو راکٹ کے ذریعے خلا میں لے جایا جاتا ہے۔ راکٹ اسے مطلوبہ بلندی تک پہنچانے کے بعد مخصوص سمت اور رفتار فراہم کرتا ہے۔ یہی رفتار سیٹلائٹ کو مدار میں برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اسے ایک آسان مثال سے سمجھیں۔ اگر کسی اونچی جگہ سے گیند سیدھی نیچے پھینکی جائے تو وہ زمین پر جا گرے گی۔ اگر گیند کو آگے کی طرف پھینکا جائے تو وہ کچھ فاصلے کے بعد زمین سے ٹکرا جائے گی۔ لیکن اگر اسے انتہائی تیز رفتاری سے افقی سمت میں پھینکا جائے تو زمین کی گولائی کے باعث گیند مسلسل آگے بڑھتی اور زمین کی طرف گرتی رہے گی، مگر سطح تک پہنچنے کے بجائے زمین کے گرد چکر لگاتی رہے گی۔ سیٹلائٹ کے ساتھ بھی بنیادی طور پر یہی ہوتا ہے۔
سینٹری فیوگل فورس سیٹلائٹ کو خلا میں روکے رکھتی ہے؟
یہاں ایک اہم سائنسی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ زمین کی کششِ ثقل اور سینٹری فیوگل فورس ایک دوسرے کو متوازن کرکے سیٹلائٹ کو مدار میں رکھتے ہیں، لیکن زیادہ درست وضاحت یہ ہے کہ سیٹلائٹ کی رفتار اور زمین کی کششِ ثقل مل کر اس کی مداری حرکت پیدا کرتے ہیں۔
زمین کی کششِ ثقل سیٹلائٹ کو مسلسل زمین کے مرکز کی طرف کھینچتی ہے، جبکہ سیٹلائٹ کی آگے کی رفتار اسے سیدھی لائن میں آگے لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ ان دونوں کے نتیجے میں سیٹلائٹ ایک خم دار راستے یعنی مدار میں گردش کرتا ہے۔
پھر سیٹلائٹ رک کیوں نہیں جاتا؟
زمین کے قریب موجود ہوا حرکت کرتی ہوئی اشیا کو رگڑ کے باعث آہستہ کرسکتی ہے، لیکن زیادہ تر سیٹلائٹس بہت بلند مدار میں ہوتے ہیں جہاں ماحول انتہائی کمزور ہوتا ہے۔
اسی لیے وہاں فضائی مزاحمت بہت کم ہوتی ہے اور سیٹلائٹ اپنی رفتار طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ البتہ یہ کہنا درست نہیں کہ سیٹلائٹ کو کبھی بھی ایندھن یا انجن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کم بلندی والے بعض مداروں میں معمولی فضائی مزاحمت وقت کے ساتھ سیٹلائٹ کی رفتار کم کرسکتی ہے، جس کے باعث اسے مدار درست کرنے کے لیے کبھی کبھار تھرسٹرز استعمال کرنا پڑتے ہیں۔
اگر رفتار کم ہوجائے تو کیا ہوگا؟
اگر کسی سیٹلائٹ کی مداری رفتار مناسب حد سے کم ہوجائے تو زمین کی کششِ ثقل اسے نسبتاً نچلے مدار میں لے جا سکتی ہے۔ کم بلندی پر فضائی مزاحمت بڑھنے سے رفتار مزید کم ہوسکتی ہے اور بالآخر سیٹلائٹ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل بھی سکتا ہے۔
اسی لیے خلا میں سیٹلائٹ کی موجودگی کسی ’غیبی سہارے‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ رفتار، کششِ ثقل اور درست مدار کے انتہائی درست حساب کا نتیجہ ہے۔
مختصراً، سیٹلائٹ زمین سے بھاگ نہیں رہا ہوتا؛ وہ مسلسل زمین کی طرف گر رہا ہوتا ہے، مگر اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہوتا ہے کہ زمین کی سطح اس کے نیچے سے مسلسل دور ہوتی رہتی ہے۔ یہی مسلسل ’گرنا‘ دراصل اس کا مدار بن جاتا ہے۔


