ایمانداری پُرسکون زندگی کی پہلی شرط ہے: جاوید اختر

معروف بھارتی نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر نے معاشرتی زندگی میں ایمانداری کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ سچائی، وعدوں کی پاسداری اور قانون کی پابندی ہی پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔

بھارتی ویب سائیٹ پر شائع انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ انسان بنیادی طور پر ایک سماجی مخلوق ہے اور لوگوں کا ایک ساتھ رہنا اسی وقت ممکن ہے جب وہ ایک دوسرے کو دھوکا نہ دیں، سچ بولیں اور کیے گئے وعدے پورے کریں۔

انہوں نے ایمانداری کو روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالوں سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ سڑک پر گاڑی چلاتے وقت بائیں جانب رہنا اور سرخ بتی پر رکنا بھی ایمانداری ہی کی مثالیں ہیں، کیونکہ قوانین کی پابندی نہ صرف خود انسان بلکہ دوسروں کو بھی نقصان سے محفوظ رکھتی ہے۔

جاوید اختر کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے حادثات اور ٹریفک جام جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بالآخر پورے معاشرے کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمانداری آرام، سکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کی بنیادی ضرورت ہے۔

جاوید اختر نے کہا کہ انسان کی زندگی میں ایمانداری کا پہلا عملی سبق اسے اپنی ماں سے ملتا ہے۔ ماں اپنے بچے کی ضروریات اور ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے اور اس رشتے میں سچائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان دنیا میں آتے ہی جس پہلے شخص سے متعارف ہوتا ہے، وہ اس کی ماں ہوتی ہے، اس لیے ایمانداری کا پہلا سبق بھی وہ زندگی کا ابتدائی سبق ایمانداری کا ملتا ہے تو بعد میں بے ایمانی کے طریقے وہیں سے ملتا ہے۔

جاوید اختر نے سوال اٹھایا کہ اگر انسان کو زندگی کا ابتدائی سبق ایمانداری کا ملتا ہے تو بعد میں بے ایمانی کے طریقے وہ کہاں سے سیکھتا ہے، اس پر ہر شخص کو خود غور کرنا چاہیے۔