نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد کے علاقے جی ٹین میں کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھں اور ان سے رقوم بٹورتے تھے۔ اس کے علاوہ جعلی آناپہ مارا، جہاں سے 220 افراد کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق گرفتار افراد میں 7 چینی باشندے اور 54 پاکستانی خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کال سینٹرز میں مبینہ طور پر مختلف نوعیت کے آن لائن فراڈ کے لیے منظم طریقے سے سرگرمیاں جاری تھیں۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر آن لائن قرضوں کی وصولی کے نام پر شہریوں کو ہراساں اور ان سے رقوم بٹورتے تھے۔ اس کے علاوہ جعلی آن لائن ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کے ذریعے شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
کارروائی کے دوران فیس بک پر مبینہ جعلی خواتین کی پروفائلز کے ذریعے شہریوں کو رابطے میں لانے اورائی کے بعد گرفتار افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، جبکہ قانونی کارروائی بعد ازاں بلیک میل کرکے رقوم وصول کرنے کی سرگرمیوں کا بھی انکشاف ہوا۔
کارروائی کے بعد گرفتار افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، جبکہ قانونی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے غیر قانونی کال سینٹر کی عمارت کو عارضی طور پر سب جیل قرار دیا گیا ہے۔


