آسٹریا میں گوگل کے ڈیٹا سینٹر کے خلاف احتجاج

یورپی ملک آسٹریا کے قصبے کرونسٹورف میں گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر کے منصوبے نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کردی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر کے قیام سے پانی اور بجلی کے استعمال سمیت ماحول پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

علاقائی حکومت کے ہیڈکوارٹرز کے باہر تقریباً 400 افراد نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے منصوبے میں مبینہ طور پر شفافیت کی کمی اور پانی کے وسائل کے استعمال سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

احتجاج کی منتظم کرسٹینا گروبر کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور مسلسل توسیع کے ماحولیاتی اثرات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی شہریوں سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے آبی وسائل کو بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے استعمال کرنے پر رضامند ہیں۔

گوگل کا آسٹریا میں پہلا ڈیٹا سینٹر کرونسٹورف میں تعمیر کیا جارہا ہے۔ منصوبے پر تعمیراتی کام رواں سال اپریل میں شروع ہوا تھا، جبکہ پہلے مرحلے کے 2027 میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 50 ہیکٹر رقبے پر مشتمل ہے، جو تقریباً 70 فٹ بال گراؤنڈز کے برابر بتایا گیا ہے۔

گوگل نے منصوبے کی لاگت ظاہر نہیں کی، تاہم اسے ایک ’’اہم سرمایہ کاری‘‘ قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ڈیٹا سینٹر سے کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ تقریباً 100 براہِ راست ملازمتیں اور ہزاروں بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

دوسری جانب ماحولیاتی کارکنوں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ توانائی اور پانی کے استعمال کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنی چاہئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 1.31 ٹیرا واٹ آور تک بجلی استعمال ہوسکتی ہے، جو تقریباً 3 لاکھ 75 ہزار گھروں کی سالانہ کھپت کے برابر بتائی جاتی ہے۔

مظاہرین نے ڈیٹا سینٹر کے کولنگ سسٹم، پانی کے استعمال اور دریائے اینز پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی توسیع کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کے توانائی، پانی اور زمین کے استعمال پر بحث بھی بڑھ رہی ہے۔ آسٹریا کے علاوہ اسپین، نیدرلینڈز اور ڈنمارک میں بھی ڈیٹا سینٹرز کی توسیع سے متعلق مقامی سطح پر خدشات سامنے آچکے ہیں۔