امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران اور غزہ سمیت عالمی معاملات پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرلیا۔
ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی برادری سے تہران کو مکمل معاشی طور پر تنہا کرنے کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اسے ’تباہ‘ کردیا جائے۔
انہوں نے کہ کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ایران کو معاشی طور پر مکمل طور پر تنہا کیا جائے، جبکہ ساتھ ہی کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
غزہ کے معاملے پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہوگئی اور تمام باقی یرغمالیوں، زندہ اور مردہ، کو واپس لایا جاچکا ہے۔ ان کے اس بیان پر جنرل اسمبلی میں تالیاں بھی بجیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے بجٹ میں 15 فیصد کمی کا دعویٰ بھی کیا، جبکہ عالمی ٹیکس کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا میں کوئی عالمی حکومت نہیں‘۔
انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کو ’بے قابو‘ ادارہ قرار دیا اور گرین لینڈ میں دو بڑے امریکی فوجی اڈے بنانے کے حوالے سے ایک ’غیر معمولی معاہدے‘ کا دعویٰ بھی کیا۔


