فرانس میں کیمرہ نصب اسمارٹ چشموں کے ذریعے خواتین کو ان کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر فلمائے جانے کے واقعات پر قانونی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ پیرس کے پراسیکیوٹرز کے مطابق انہیں سمارٹ چشموں کے استعمال سے متعلق پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔
پراسیکیوٹرز نے منگل کو بتایا کہ تحقیقات کا تعلق خاص طور پر سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے اس رجحان سے ہے جس میں خواتین کو سڑکوں یا عوامی مقامات پر ان کی رضامندی کے بغیر سمارٹ چشموں کے ذریعے ریکارڈ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں ویڈیوز آن لائن شیئر کر دی جاتی ہیں۔
اسمارٹ چشمے عام طور پر تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے علاوہ موسیقی سننے، فون کال کرنے، متن کا ترجمہ کرنے اور مصنوعی ذہانت کے معاون سے رابطے جیسی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ میٹا کے رے بین میٹا چشمے، جو ایزیلر لکسوٹیکا کے ساتھ شراکت داری میں تیار کیے گئے ہیں، اس ٹیکنالوجی کی نمایاں مثال ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میٹا نے 2025 میں تقریباً 70 لاکھ جوڑے سمارٹ چشمے فروخت کیے۔ دوسری بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جن میں گوگل اور اسنیپ شامل ہیں، بھی مصنوعی ذہانت سے لیس چشموں کی مارکی نے ستمبر کے آغاز میں کیمرہ والے چشموں سے بنائی گئی ویڈیوز کے طریقہ کار بار بار سامنے آیا: ایک شخص کسی نوجوان خاتون یا لڑکی کے قریب جاتا ہے، سمارٹ چشموں کے ذریعے بظاہر غیر محسوس انداز میں اس کی ویڈیو بناتا ہے، پھر ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں متاثرہ فرد پریشان، شرمندہ یا غیر آرام دہ محسوس کرے۔ اس کے بعد ویڈیو عموماً ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا پلی کو ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تضحیک، خواتین مخالف گالم گلوچ، دھمکیوں اور دیگر آن لائن حملٹیول کے دوران ایک نوعمر لڑکی کو میٹا کے سمارٹ چشمے پہنے ایک شخص نے فلمایا۔ ویڈیو ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوئی، جس کے نتیجے میں لڑکی کو مبینہ طور پر نفرت انگیز تبصروں اور جانٹ میں توسیع کی تیاری کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز، متاثرہ خواتین کو ہراسانی
فرانس میں آن لائن بدسلوکی کے متاثرین کے لیے قومی ہاٹ لائن چلانے والی تنظیم ای – انفینس نے ستمبر کے آغاز میں کیمرہ والے چشموں سے بنائی گئی ویڈیوز کے خفیہ طور پر ریکارڈ اور پھر آن لائن شیئر کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
تنظیم کے مطابق 8 ستمبر تک تقریباً 20 خواتین نے ایسے واقعات کی اطلاع دی، جن میں زیادہ تر کیسز میٹا کے چشموں سے متعلق تھے۔
ای – انفینس کے مطابق واقعات میں ایک خاص طریقہ کار بار بار سامنے آیا: ایک شخص کسی نوجوان خاتون یا لڑکی کے قریب جاتا ہے، سمارٹ چشموں کے ذریعے بظاہر غیر محسوس انداز میں اس کی ویڈیو بناتا ہے، پھر ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں متاثرہ فرد پریشان، شرمندہ یا غیر آرام دہ محسوس کرے۔ اس کے بعد ویڈیو عموماً ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کر دی جاتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ بعض متاثرین کو ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تضحیک، خواتین مخالف گالم گلوچ، دھمکیوں اور دیگر آن لائن حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک واقعے میں پیرس کے ایک سالانہ اسٹریٹ میوزک فیسٹیول کے دوران ایک نوعمر لڑکی کو میٹا کے سمارٹ چشمے پہنے ایک شخص نے فلمایا۔ ویڈیو ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوئی، جس کے نتیجے میں لڑکی کو مبینہ طور پر نفرت انگیز تبصروں اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
فرانس میں قانونی کارروائی کا امکان
پیرس پراسیکیوٹرز کے مطابق فرانسیسی قانون کے تحت کسی شخص کی نجی زندگی سے متعلق معلومات یا تصاویر کو اس کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ کرنا بعض حالات میں جرم بن سکتا ہے، سے بھی شروع کی گئی ہیں، خصوصاً جہاں خفیہ فلم بندی کے ساتھ رضامندی کے بغیر جنسی نوع اس کے سائبر کرائم ڈویژن نے ستمبر میں سمارٹ چشموں کا عملی جائزہ بھی لیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان آلات کے ذریعے دیگر سائبر جرائم کا ارتکاب کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔ ممکنہ خطرات میں حساس معلومات، مثلاً کسی کرپٹو کرنسی والیمز سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جس کی سزا دو سال تک قید اور 45 ہزار یورو تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔
پراسیکیوٹرز نے یہ بھی بتایا کہ بعض معاملات میں تحقیقات جنسی حملے کے حوالے سے بھی شروع کی گئی ہیں، خصوصاً جہاں خفیہ فلم بندی کے ساتھ رضامندی کے بغیر جنسی نوعیت کا جسمانی رابطہ بھی شامل ہو۔
پیرس پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق اس کے سائبر کرائم ڈویژن نے ستمبر میں سمارٹ چشموں کا عملی جائزہ بھی لیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان آلات کے ذریعے دیگر سائبر جرائم کا ارتکاب کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔ ممکنہ خطرات میں حساس معلومات، مثلاً کسی کرپٹو کرنسی والیٹ کے ریکوری فقرے، کی خفیہ چوری بھی شامل ہے۔
ٹیکنالوجی کے ساتھ نگرانی کا مطالبہ
ای – انفینس کی نمائندہ ویرونیک بیشو نے کہا کہ ایسے آلات کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مصنوعات کے ڈیزائن کے مرحلے ہی سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مواد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان صارفین کے اکاؤنٹس معطل کیے جائیں جو بار بار لوگوں کو ذلت یا ہراسانی کا نشانہ بناتے ہیں۔
میٹا کی جانب سے اس سے قبل کہا جا چکا ہے کہ کمپنی نے اپنے سمارٹ چشموں میں موجود چمکتی ہوئی ایل ای ڈی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ یہ ایل ای ڈی اس بات کی نشاندہی کرنے کے لیے بنائی گئی ہے کہ چشمے کے کیمرے سے ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔
تاہم فرانس میں سامنے آنے والے واقعات نے ایک وسیع تر سوال اٹھا دیا ہے: ایسی ٹیکنالوجی میں ریکارڈنگ کی سہولت اور افراد کی رضامندی و پرائیویسی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟


