غزہ میں حماس کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد اسرائیلی کی بربریت سے تباہ ہونے والی عمارتوں کی تعمیرِ نو کا عمل تعطل کا شکار ہے، جس کے باعث ہزاروں بے گھر فلسطینی منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے یہ خستہ عمارتیں محفوظ گھر نہیں بلکہ خیموں اور عارضی کیمپوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر واحد آپشن بن چکی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق غزہ سٹی کی رہائشی ہبہ عرفات کا چار منزلہ اپارٹمنٹ بھی ایسی ہی عمارتوں میں شامل ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں سے متاثر ہونے والی عمارت کی بنیاد کا ایک حصہ بیٹھ چکا ہے، جس کے باعث پوری عمارت ایک جانب جھک گئی ہے۔
عرفات اپنے شوہر اور چھ بیٹیوں کے ساتھ اسی عمارت میں رہ رہی ہیں، جہاں اب تقریباً 30 افراد مقیم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جنگ کے دوران ان کا گھر تباہ ہوگیا، زمین برباد ہو گئی اور واپس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ باقی نہیں رہی۔
وہ اپنے کمرے کے فرش پر پانی کی بوتل رکھ کر عمارت کے جھکاؤ کی شدت دکھاتی ہیں۔ بوتل فوراً ایک طرف لڑھک جاتی ہے۔
عرفات کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ عمارت خطرناک ہے، لیکن ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ عمارتیں گرنے کی خبریں سننے کے بعد خوف مزید بڑھ گیا ہے اور انہیں ہر وقت خدشہ رہتا ہے کہ کہیں دیوار یا چھت ان کے اوپر نہ آگرے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2025 تک غزہ میں تقریباً 84 فیصد عمارتیں نقصان زدہ یا تباہ ہو چکی تھیں۔ غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق علاقے میں تقریباً 2 ہزار عمارتیں منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
گزشتہ ہفتے غزہ سٹی میں ایک چھ منزلہ عمارت گرنے سے 21 افراد، جن میں 12 بچے شامل تھے، ہلاک ہوئے۔ مقامی حکام نے کہا تھا کہ عمارت کو متعدد مرتبہ اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اسرائیل نے عمارت پر حملے کی تردید کی۔
غزہ سٹی کے بلدیاتی اہلکار سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں گشت کرکے ایسی عمارتوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے منہدم ہونے کا خطرہ ہو۔ خطرناک عمارتوں پر مخصوص نشانات بھی لگائے جاتے ہیں۔
غزہ سٹی کے ترجمان حسنی محنہ کے مطابق یہ عمارتیں اندر رہنے والے بے گھر افراد، آس پاس کے رہائشیوں اور قریبی عارضی کیمپوں میں موجود لوگوں کے لیے بھی حقیقی خطرہ ہیں۔
تاہم ان کے مطابق ہزاروں بے گھر افراد خستہ حال عمارتوں میں رہنے پر اس لیے مجبور ہیں کہ کیمپوں میں موجود خیمے انہیں شدید گرمی اور سردی سے مناسب تحفظ فراہم نہیں کرتے۔
تباہی، بیماری اور محدود امداد
اسرائیلی بمباری کے دوران غزہ کی بڑی تعداد میں آبادی کم از کم ایک مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔ بہت سے لوگ اب بھی بڑے عارضی کیمپوں، امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ خیموں یا خود بنائے گئے عارضی ٹھکانوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
کچھ کیمپوں میں بھیڑ، صفائی کے ناقص انتظام اور کچرے کی نکاسی کے مسائل کے باعث جلدی بیماریوں سمیت مختلف امراض پھیل رہے ہیں۔ ان حالات میں بعض خاندان خطرناک عمارتوں میں منتقل ہونے کو نسبتاً بہتر انتخاب سمجھتے ہیں۔
غزہ کی معیشت بھی شدید تباہی سے دوچار ہے اور بڑی تعداد میں شہری انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
تعمیرِ نو کا عمل کیوں رکا ہوا ہے؟
اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد تعمیرِ نو کے منصوبے شروع ہونے کی توقع تھی، تاہم جنگ بندی کا عمل کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے اور بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو ابھی شروع نہیں ہو سکی۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں بعض ایسے آلات اور سامان کی آمد پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن کے بارے میں اس کا مؤقف ہے کہ انہیں فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب غزہ کے شہری اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہی سامان ملبہ ہٹانے اور تعمیرِ نو کے لیے ضروری ہے۔
ان میں تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ صاف کرنے والی بھاری مشینری، مشینوں کے پرزے اور انہیں چلانے کے لیے ضروری چکنا کرنے والا سامان بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی یونین کے مشترکہ جائزے کے مطابق غزہ کو آئندہ 10 برس میں بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔


