ارجنٹائن میں سیکڑوں وہیل بچوں کی پراسرار موت

پورٹو میڈرن: ارجنٹائن کے جنوبی خطے پٹاگونیا کے ساحلوں پر سیکڑوں جنوبی رائٹ وہیل کے بچے مردہ حالت میں ملنے کے بعد سائنس دانوں نے ایک بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماری کو اموات کی ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق رواں برس جون سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ رواں ہفتے بھی جاری رہا، جب جنوبی صوبہ چوبوت کے ساحلوں پر درجنوں مردہ وہیل بچے بہہ کر پہنچے۔ ماہرِ بحری حیات ماریانو کوسکاریلا کے مطابق رواں موسم میں کم عمر وہیلوں کی ہلاکت کی شرح خاص طور پر زیادہ ہے۔

محققین کو شبہ ہے کہ ایریسیپیلاس نامی سنگین بیکٹیریائی بیماری اس بڑے پیمانے پر اموات کی وجہ ہوسکتی ہے۔ یہ بیکٹیریا وہیلوں کی جلد پر عام طور پر پایا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

چوبوت کی صوبائی حکومت کے مطابق ابتدائی تحقیق میں ایک عام سمندری بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی ہے اور حکام اس معاملے پر سائنسی ماہرین کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔

تاہم معاملہ صرف قدرتی بیماری تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ شواہد قدرتی وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن انسانی سرگرمی کے ممکنہ اثر کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔

پورٹو میڈرن اور قریبی والڈیز جزیرہ نما جنوبی رائٹ وہیلوں کی افزائش کے اہم مراکز ہیں۔ 2025 میں یہاں ریکارڈ 2110 وہیل شمار کی گئی تھیں، جن میں تقریباً 800 بچے شامل تھے۔ رواں سال اب تک تقریباً 1375 وہیل شمار ہوئی ہیں، جن میں قریب 400 بچے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ اموات فوری طور پر اس آبادی کے لیے درمیانی مدت کے خطرے کی علامت نہیں، کیونکہ جنوبی رائٹ وہیل تقریباً 60 سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

تاہم مسلسل کم عمر وہیلوں کی اموات نے ایک اہم ماحولیاتی سوال ضرور اٹھا دیا ہے: اگر وجہ واقعی بیکٹیریائی بیماری ہے تو اس کے پھیلاؤ کی وجہ کیا ہے، اور کیا سمندری ماحول میں کوئی ایسی تبدیلی رونما ہو رہی ہے جو ان اموات میں کردار ادا کر رہی ہے؟

فی الحال سائنس دانوں کے پاس حتمی جواب نہیں، لیکن ساحلوں پر بڑھتی ہوئی ہلاکتیں مزید سائنسی نگرانی اور تحقیقات کی ضرورت کو نمایاں کر رہی ہیں۔