ڈبلن: غزہ میں جنگ کے حوالے سے آئرلینڈ کا سخت مؤقف اب کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں پر بھی نمایاں اثر ڈال رہا ہے۔ اسرائیل کے خلاف فٹبال میچ سے قبل آئرش شائقین کے بائیکاٹ، ٹیلی ویژن کوریج میں تبدیلی اور یوروویژن میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف آئرلینڈ کے مؤقف نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان نیشنز لیگ کا میچ اتوار کو ہنگری کے شہر ڈیبریسن میں کھیلا جائے گا۔ اسرائیل میں بین الاقوامی میچ کی میزبانی ممکن نہ ہونے کے باعث یہ مقابلہ غیر جانب دار مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ (ایف آئی اے ) نے اس میچ کے لیے آئرش شائقین کو مختص ٹکٹوں کا کوٹہ بھی قبول نہیں کیا۔ دوسری جانب 4 اکتوبر کو ہونے والا ریورس فکسچر، جو آئرلینڈ میں کھیلا جانا تھا، سربیا منتقل کردیا گیا ہے اور بند دروازوں کے پیچھے ہوگا۔
آئرلینڈ کا سرکاری نشریاتی ادارہ آر ٹی ای معاہداتی ذمہ داریوں کے باعث میچ نشر کرے گا، تاہم معمول کی کوریج میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے۔ میچ کے لیے آئرش کمنٹری اور معمول کے پنڈتوں کی عدم موجودگی کو مقامی سطح پر غزہ کے معاملے پر عوامی دباؤ اور ادارے کی معاہداتی ذمہ داریوں کے درمیان ایک سمجھوتے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اسپورٹس اور میڈیا کے ماہر نیل او بوئل کے مطابق کسی بڑے بین الاقوامی میچ کو اس انداز میں نشر کرنا غیر معمولی صورتحال ہے۔ ان کے مطابق آر ٹی ای کو ایک طرف نشریاتی معاہدے کی پابندی اور دوسری طرف عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔
یوروویژن سے فٹبال تک
فٹبال کا تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آئرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی شرکت کے باعث اگلے سال کے یوروویژن سانگ مقابلے کا بائیکاٹ کرے گا۔ یوں غزہ کے معاملے پر آئرلینڈ کا مؤقف اب کھیلوں اور ثقافتی تقریبات دونوں میں نظر آرہا ہے۔
آئرلینڈ نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر متعدد مرتبہ تن کی شرح مغربی یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں رہی۔
محققین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے آئرلینڈ کی اپنی نوآبادیاتی تاریخ، تقسیم اور نقل مکانی کا تجربہ بھی ایک ایک خط پر دستخط کرچکے ہیں جس میں قومی فٹبال ٹیم سے اسرائیل کے خلاف میچز کے بائیکاٹ اعتراف کیا ہے کہ ان مقابلوں کے حوالے سے کھلاڑیوں کو بے آرامی محسوس ہورہی ہے۔
تاہم اسرائیلی فٹبال فیڈریشن نے ان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا، جسسٹی انٹرنیشنل آئرلینڈ نے بھی یوئیفا سے اسرائیل کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم اسرائیلی کلب ف شیٹر نے بائیکاٹ مہم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میچ آئرلینڈ میں سکیورٹی انتظامات کے ساتھ کرایا جاسکتا تھا۔ ان کے مطابق سیاسی کارکنوں کی مہم نے کھلاڑیوں اسے مطلوبہ حمایت نہیں مل سکی۔
ادارے کے مطابق اسرائیل کے خلاف میچ کھیلنے سے اپنی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملےقید کی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق آئرلینڈ میں فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کی شرح مغربی یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں رہی۔ محققین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے آئرلینڈ کی اپنی نوآبادیاتی تاریخ، تقسیم اور نقل مکانی کا تجربہ بھی ایک عنصر ہے۔
کھلاڑی بھی دباؤ میں
آئر لینڈ میں کھیلوں سے وابستہ 160 سے زیادہ افراد ایک خط پر دستخط کرچکے ہیں جس میں قومی فٹبال ٹیم سے اسرائیل کے خلاف میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آئرلینڈ کے کوچ ہیمیر ہالگریمسن نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان مقابلوں کے حوالے سے کھلاڑیوں کو بے آرامی محسوس ہورہی ہے۔ تاہم اسرائیلی فٹبال فیڈریشن نے ان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا، جسے آئرش وزیراعظم مائیکل مارٹن نے ناقابل قبول قرار دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل آئرلینڈ نے بھی یوئیفا سے اسرائیل کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم اسرائیلی کلب فٹبال کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
دوسری جانب سابق آئرش وزیر انصاف ایلن شیٹر نے بائیکاٹ مہم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میچ آئرلینڈ میں سکیورٹی انتظامات کے ساتھ کرایا جاسکتا تھا۔ ان کے مطابق سیاسی کارکنوں کی مہم نے کھلاڑیوں پر غیر ضروری دباؤ پیدا کیا ہے۔
ایف آئی اے نے گزشتہ برس بھی یوئیفا سے اسرائیل کی معطلی کی درخواست کی تھی، تاہم اسے مطلوبہ حمایت نہیں مل سکی۔ ادارے کے مطابق اسرائیل کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کی صورت میں آئرلینڈ کو کھیلوں اور مالی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔
یوں آئرلینڈ میں غزہ جنگ پر سیاسی اور عوامی موقف اب کھیلوں کے میدان تک پہنچ چکا ہے، جہاں فٹبال میچ محض ایک کھیل نہیں رہا بلکہ بائیکاٹ، نشریات، کھلاڑیوں اور شائقین کے حوالے سے ایک وسیع تر سیاسی و اخلاقی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔


