گوگل فوٹوز میں اے آئی کا نیا کمال: اب بنے گی آپ کی ڈیجیٹل الماری

گوگل نے ایک ایسا اے آئی فیچر متعارف کرا دیا ہے جو صارف کی تصاویر میں موجود کپڑوں کو پہچان کر انہیں ایک ورچوئل الماری میں ترتیب دیتا ہے۔

اس نئے فیچر کو ہالی ووڈ فلم کلیولیس میں دکھائی جانے والی مشہور ورچوئل الماری سے مشابہ قرار دیا جارہا ہے، جہاں مرکزی کردار چیر اپنے کپڑوں کو ڈیجیٹل اسکرین پر دیکھ کر مختلف لباس منتخب کرتی تھی۔ گوگل نے اپریل میں اس ٹیکنالوجی کا اعلان کیا تھا اور اب اس کی وسیع پیمانے پر دستیابی شروع کردی ہے۔

آپ کی تصاویر، آپ کی ڈیجیٹل الماری

گوگل فوٹوز کا اے آئی سسٹم صارف کی فوٹو لائبریری میں موجود لباس کو شناخت کرکے انہیں الگ الگ آئٹمز کی شکل میں منظم کرتا ہے۔ صارف شرٹس، ٹاپس، پینٹس، جیولری اور دیگر اشیا کو الگ کیٹیگریز میں دیکھ سکتا ہے۔

اس کے بعد مختلف کپڑوں کو آپس میں ملا کر نئے لباس تیار کیے جاسکتے ہیں۔ گوگل کے مطابق صارف اپنے پسندیدہ امتزاج محفوظ کرسکتا ہے، دوستوں کے ساتھ شیئر کرسکتا ہے یا مختلف مواقع، مثلاً سفر، کام یا تقریبات کے لیے الگ ڈیجیٹل موڈ بورڈ بنا سکتا ہے۔

صرف الماری نہیں، ورچوئل ٹرائی بھی

اس فیچر میں صارف منتخب لباس کو ورچوئل طور پر آزما بھی سکتا ہے، یعنی لباس پہننے سے پہلے یہ دیکھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے کہ وہ اس پر کیسا دکھائی دے گا۔ اس طرح گوگل فوٹوز محض تصاویر محفوظ کرنے والی ایپ سے آگے بڑھ کر ذاتی اسٹائلنگ کے لیے بھی اے آئی استعمال کررہا ہے۔

پرائیویسی کا سوال بھی اہم

گوگل کا کہنا ہے کہ صارف کے لباس اور پہننے کے انداز سے متعلق ڈیٹا ریٹیلرز یا دیگر تھرڈ پارٹیز کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاتا۔ تاہم ایسے فیچرز میں ذاتی تصاویر کے اے آئی تجزیے کے باعث صارفین کے لیے یہ سمجھنا اہم ہے کہ ان کی تصاویر اور متعلقہ ڈیٹا کس طرح استعمال اور محفوظ کیا جاتا ہے۔

گوگل فوٹوز میں مزید اے آئی تبدیلیاں

ورچوئل کلوزٹ کے ساتھ گوگل فوٹوز میں کئی دیگر اپ ڈیٹس بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں موڈز نامی نئے فوٹو اسٹائلز، اے آئی سے چلنے والے ری مکس ٹیمپلیٹس اور بہتر مارک اپ ٹول شامل ہیں۔ مارک اپ میں حساس معلومات، مثلاً گاڑی کی نمبر پلیٹ، دھندلا یا چھپانے کے لیے نیا ری ڈیکٹ ٹول بھی دیا گیا ہے۔

یوں گوگل فوٹوز کا نیا فیچر اس سمت کی ایک اور مثال ہے جس میں اے آئی روزمرہ کی ذاتی معلومات کو محض محفوظ کرنے کے بجائے انہیں منظم کرکے عملی تجاویز اور تخلیقی تجربات میں تبدیل کررہا ہے۔