واشنگٹن: امریکا اور چین نے تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا، تاہم دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی، ٹیکنالوجی اور تزویراتی مسابقت بدستور برقرار ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعے کو ہونے والی اہم ملاقات کے بعد ٹرمپ نے تصدیق کی کہ دونوں رہنما رواں سال مزید دو مرتبہ ملاقات کریں گے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا اور چین نے موجودہ تجارتی جنگ بندی کو 10 جنوری تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ جنگ بندی پہلے نومبر میں ختم ہونا تھی۔
تجارتی تنازع کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے تھے، جو ایک مرحلے پر 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گئے تھے۔
معاہدے کے تحت چین نے امریکا سے سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات کی خریداری بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ نایاب معدنیات پر عائد بعض پابندیوں کو ایک سال کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔
امریکی تجارتی حکام کے مطابق جنگ بندی میں توسیع کو معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے اضافی مدت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق واشنگٹن کی تشویش بالخصوص نایاب معدنیات سے متعلق پابندیوں اور ان کی فراہمی کے حوالے سے برقرار ہے، اسی لیے امریکا جنگ بندی کو مختصر مدت کے لیے برقرار رکھنے پر توجہ دے رہا ہے۔
امریکی اور چینی قیادت نے اقتصادی معاملات میں مزید پیش رفت کا عندیہ بھی دیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے مطابق دونوں ممالک بعض مصنوعات کی ترجیحی بنیادوں پر تجارت کے لیے فہرست تیار کرنے پر بھی کام کررہے ہیں۔
دونوں ملک مستقبل کے تجارتی تنازعات میں بعض مصنوعات کو تنازع سے باہر رکھنے پر بھی اتفاق کرچکے ہیں۔
امریکا اور چین نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے حوالے سے ایک دوسرے کو بروقت اطلاع دینے کے لیے کسی قسم کا رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام ہاٹ لائن کی شکل اختیار کرسکتا ہے، تاہم یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق کسی واقعے کے پیچھے ریاست، کوئی انفرادی فریق یا محض حادثہ کارفرما تھا۔
ماہرین کے مطابق تجارتی جنگ بندی سے امریکا اور چین کے درمیان فوری کشیدگی میں کمی کا موقع ضرور ملا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، تجارت، دفاع اور صنعتی پالیسی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کی مسابقت جاری رہنے کا امکان ہے۔


