کریتی سینن کا خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر سوال

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن نے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے چھیڑ چھاڑ، جنسی تشدد اور ریپ کے واقعات پر پدرشاہی سوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کریتی سینن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ خواتین کو ہر بار یہ سکھانے کے بجائے کہ وہ خود کو جنسی تشدد سے کیسے محفوظ رکھیں، مردوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، جنسی استحصال اور زبردستی نہ کریں۔

اداکارہ نے کہا کہ یہ لڑائی مردوں اور خواتین کے درمیان نہیں بلکہ خواتین اور پدرشاہی سوچ کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق ایسے مرد بھی اس سوچ کا حصہ ہیں جو خواتین کو کمتر سمجھتے ہیں، جبکہ بعض خواتین بھی پدرشاہی رویوں کو ہی روایات اور اقدار سمجھ لیتی ہیں۔

کریتی سینن نے سوال اٹھایا کہ کسی نابالغ کے ساتھ زیادتی ہونے کے بعد بھی معاشرے میں یہ سوال کیوں کیا جاتا ہے کہ لڑکی نے کیا پہنا تھا، وہ کہاں تھی، کس کے ساتھ تھی، باہر کیوں گئی اور اس کے خاندان نے اسے اجازت کیوں دی؟

ان کے مطابق توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ جرم کرنے والے شخص کی سوچ اور رویہ کیا تھا، نہ کہ متاثرہ لڑکی کے لباس یا نقل و حرکت کو زیر بحث لایا جائے۔

کریتی سینن نے کہا کہ لڑکوں کو رضامندی، احترام اور ذاتی حدود کا مطلب سمجھانے کے ساتھ اپنے رویے کی ذمہ داری قبول کرنا بھی سکھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ غلط رویہ اختیار کرنے والے مردوں کی غلطی کا بوجھ خواتین پر ڈالنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

دیگر اداکاراؤں نے بھی آواز اٹھائی

اداکارہ عائشہ خان نے بھی جمئی میں ایک 14 سالہ لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر سوشل میڈیا کے ذریعے ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی جانب سے متاثرہ لڑکی کی مدد کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ویڈیو بنانے پر سوال اٹھایا اور ہراسانی کو ثقافت کا نام دینے کی مخالفت کی۔

خوشبو پٹانی کا بھی ردعمل

اداکارہ دیشا پٹانی کی بہن خوشبو پٹنی نے بھی 22 ستمبر کو ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ اگر ایک لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے ساتھ رہنا، گھومنا یا دوستی کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو اس پر اعتراض کیوں ہونا چاہیے۔

جمئی واقعے میں کیا ہوا؟

فراہم کردہ معلومات کے مطابق 19 ستمبر کو بھارتی ریاست بہار کے جمئی کے مڑوا پہاڑ علاقے میں ایک 14 سالہ طالبہ کے ساتھ سڑک پر مبینہ چھیڑ چھاڑ اور بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا، جس کی ویڈیو 21 ستمبر کو سامنے آئی۔

پولیس کے مطابق ویڈیو کا علم ہونے کے بعد متاثرہ لڑکی کی شناخت کرکے مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔

پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والے تین نابالغوں کو حراست میں لینے اور ویڈیو مبینہ طور پر وائرل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں پوکسو ایکٹ کے تحت کارروائی بھی کی جارہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے واقعے کی قابل اعتراض ویڈیوز ہٹوانے کی کارروائی کی گئی جبکہ ویڈیو پھیلانے میں مبینہ طور پر ملوث متعدد افراد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔