کراچی میں 8 ماہ میں شہری 2 ارب 27 کروڑ سے زائد کے سامان سے محروم

کراچی: شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم اور چھینا جھپٹی کے واقعات نے شہریوں کو اربوں روپے کے نقصان سے دوچار کردیا۔

کراچی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 تک شہریوں سے صرف گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور موبائل فونز کی مد میں 2 ارب 27 کروڑ 81 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا سامان چھینا گیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق 8 ماہ کے دوران کراچی میں شہریوں سے 898 گاڑیاں چھینی گئیں۔ ایک گاڑی کی اوسط مالیت 15 لاکھ روپے کے محتاط اندازے کے مطابق چھینی گئی گاڑیوں کی مجموعی مالیت ایک ارب 34 کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔
12 ہزار 200 موٹرسائیکلیں بھی نہ بچ سکیں

اسی عرصے میں کراچی کے شہری 12 ہزار 200 موٹرسائیکلوں سے بھی محروم ہوگئے۔ ایک موٹرسائیکل کی اوسط مالیت 50 ہزار روپے فرض کی جائے تو چھینی گئی موٹرسائیکلوں کی مجموعی مالیت 61 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران شہریوں سے 12 ہزار 846 موبائل فونز بھی چھینے گئے۔ فی موبائل فون اوسط مالیت 25 ہزار روپے کے حساب سے ان موبائل فونز کی مجموعی مالیت 32 کروڑ 11 لاکھ 50 ہزار روپے بنتی ہے۔

گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور موبائل فونز کو ملا کر صرف ان تین اقسام کے سامان کی مجموعی مالیت 2 ارب 27 کروڑ 81 لاکھ 50 ہزار روپے بنتی ہے۔

یہ حساب صرف ان اشیا تک محدود ہے جن کے اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔ دیگر قیمتی سامان، نقد رقم یا چھینا گیا دوسرا مال اس مجموعے میں شامل نہیں۔

دوسری جانب پولیس کے اعلیٰ حکام مختلف مواقع پر اسٹریٹ کرائم اور دیگر وارداتوں میں کمی کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ تاہم جنوری سے اگست 2026 کے مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے شہری صرف تین اقسام کی قیمتی اشیا کی مد میں اربوں روپے کے نقصان سے دوچار ہوئے۔

اعداد و شمار کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور جرائم کے مؤثر سدباب کے لیے پولیس کی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ شہریوں کے لیے قیمتی سامان کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ایک اہم چیلنج برقرار ہے