ٹک ٹاک بچوں اور نوجوانوں کے لیے بیوٹی فلٹرز سمیت کئی پابندیوں پر تیار

واشنگٹن: مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے امریکی ریاست الاباما کے ساتھ کم از کم 100 ملین ڈالر ادا کرنے اور نوعمر صارفین کے لیے وقت کی حد سمیت متعدد نئی پابندیاں نافذ کرنے پر اتفاق کرلیا، جس کے بعد کمپنی مقدمے کی سماعت سے بچ گئی۔

امریکی ریاست الاباما نے ابتدائی طور پر اپریل 2025 میں ٹک ٹاک اور اس کی چینی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ریاست کا الزام تھا کہ ایپ نوجوان صارفین کو اس انداز میں اپنی طرف راغب کرتی ہے جو ایک پیچیدہ جوئے کی مشین سے مشابہ ہے۔

بعد میں ریاست نے مقدمے کو الاباما کے ڈیسیپٹیو ٹریڈ پریکٹس ایکٹ کے تحت ان دعوؤں تک محدود کردیا کہ ٹک ٹاک نے ریسٹریکٹڈ موڈ اور کڈز موڈ جیسے حفاظتی فیچرز کی مؤثریت کے بارے میں غلط بیانی کی۔

ریاستی عدالتی دستاویزات کے مطابق ان حفاظتی موڈز کے باوجود بعض صارفین کو خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے، کھانے کی خرابی، شراب اور جنسی مواد سے متعلق ویڈیوز دکھائی گئیں۔

الاباما میں ٹک ٹاک کے خلاف مقدمے کی سماعت پیر سے شروع ہونا تھی۔ ریاست نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹک ٹاک نے والدین کو بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے والے اپنے حفاظتی فیچرز کی مؤثریت کے بارے میں گمراہ کیا۔

الاباما کے اٹارنی جنرل اسٹیو مارشل نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ریاست کے والدین کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔

ٹک ٹاک الاباما کو کم از کم 100 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 27 ارب 76 کروڑ روپے ادا کرے گا، جبکہ دیگر ریاستیں بھی اسی نوعیت کے معاہدے قبول کرتی ہیں تو مجموعی ادائیگی 300 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 83 ارب 27 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت نوعمر صارفین کے لیے روزانہ ٹک ٹاک استعمال کرنے کی مدت دو گھنٹے تک محدود کی جائے گی۔

نوجوان صارفین کے لیے رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک ایپ تک رسائی بھی محدود ہوگی، جبکہ اسکول کے اوقات میں نوٹیفکیشنز معطل کیے جائیں گے۔

ٹک ٹاک نوجوان صارفین کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام مزید مضبوط کرے گا اور نوعمر صارفین کے لیے بیوٹی فلٹرز پر پابندی عائد کرے گا۔

اس کے علاوہ نوجوانوں کو ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر تیار کردہ مواد کے بجائے غیر شخصی نوعیت کی فیڈ فراہم کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔

معاہدے میں ایک مشروط شق بھی شامل ہے جس کے تحت اگر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی ایسا ہی قدم اٹھاتے ہیں تو نوجوانوں کے لیے رات کی پابندی رات 10 بجے سے صبح 7 بجے تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

ٹک ٹاک اور الاباما کے درمیان طے پانے والا معاہدہ حال ہی میں میٹا کے امریکی ریاستوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے ملتا جلتا ہے۔

اگست میں میٹا نے ریاستوں کی جانب سے دائر ایک بڑے مقدمے کے تصفیے کے لیے 18 ارب ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاملاے میں امریکی ریاستوں کا الزام تھا کہ میٹا نے انسٹاگرام اور فیس بک کو بچوں کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا۔

کیلیفورنیا اور نیویارک سمیت امریکا کی ایک درجن سے زائد ریاستوں میں ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات اب بھی زیرِ التوا ہیں۔

ٹک ٹاک اس سے قبل بھی ایسے مقدمات طے کرچکا ہے جو سماعت کے مرحلے تک پہنچ گئے تھے۔

ٹک ٹاک کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی کی ترجیح ایک محفوظ اور مثبت ماحول فراہم کرنا ہے جہاں صارفین تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار، اپنی پسند کا مواد دریافت اور کمیونٹی سے رابطہ کرسکیں۔

ترجمان کے مطابق کمپنی نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے اپنے حفاظتی نظام کو مسلسل بہتر بنانے کے عزم پر قائم ہے۔

ماہرین کے مطابق مقدمے کی سماعت کی صورت میں ٹک ٹاک کے اندرونی حفاظتی نظام پر تفصیلی عوامی جانچ پڑتال ہوسکتی تھی اور کمپنی کی دستاویزات اور انتظامیہ کے بیانات عدالت میں سامنے آسکتے تھے۔