اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں پاکستان ریلوے حکام نے ایم ایل ون منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی سے پشاور تک موجودہ ریلوے ٹریک کو جدید تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔
حکام کے مطابق ایم ایل ون کا ٹریک تقریباً 1726 کلومیٹر طویل ہے اور ملک میں ریل کے ذریعے سفر کرنے والے تقریباً 73 فیصد مسافروں کی آمدورفت اسی روٹ سے ہوتی ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوگا جبکہ سگنلنگ نظام کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
ریلوے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ ٹریک اور اس سے منسلک سگنلنگ کا نظام انتہائی پرانا ہوچکا ہے۔ بعض سگنلز کی عمر تقریباً ڈیڑھ صدی تک پہنچ چکی ہے، جنہیں حکام نے جاپان کے عجائب گھروں میں موجود پرانے نظام سے تشبیہ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مستقبل میں تھرکول اور ریکوڈک سے متعلق متوقع مال بردار ٹریفک بھی اسی ریلوے کوریڈور کے ذریعے منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جس کے باعث ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو مزید اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔
حکام کے مطابق اگر منصوبہ سی پیک فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جاتا تو اس میں مزید تاخیر کا خدشہ تھا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اب ایشیائی ترقیاتی بینک سے منصوبے کے لیے مالی معاونت کے حوالے سے بات چیت شروع کردی گئی ہے۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ ٹریک کے بعض حصوں میں نئی الائنمنٹ درکار ہوگی، جس کے نتیجے میں اضافی اراضی حاصل کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایم ایل ون کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے، تاہم مالی معاونت کب دستیاب ہوگی، اس بارے میں فی الحال حتمی تاریخ دینا قبل از وقت ہوگا۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران ایم ایل ون منصوبے کا گراؤنڈ بریکنگ مرحلہ مکمل کرلیا جائے۔


